ہر وہ لیڈر، جو آپ کو روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے،یا تو آپ کو دھوکا دے رہا ہے، یا پھر خود غلط فہمی کا شکار ہے۔
اوراِس معاملے کا تعلق پاناما اور ڈان لیکس سے نہیں ۔حکومتی پالیسیوں اور اپوزیشن کے احتجاج سے بھی نہیں۔ میاں نواز شریف،عمران خان اور آصف علی زرداری کے حالیہ بیانات سے بھی نہیں، کلبھوشن کیس سے بھی نہیں،یہاں تک کہ قومی اقتصادی کونسل کے تازہ تازہ منظور کر دہ ''پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ ‘‘سے بھی۔اس کا تعلق تواُن سات عشروں سے ہے، جن میں ہم منزل سے بے خبرصحرائوں میں بھٹکتے رہے۔ اِسی بے سمتی کے باعث آج ریاست کی تابناکی کے دعوے کھوکھلے معلوم ہوتے ہیں۔ گرد اتنی ہے،بھانت بھانت کی بولیاںہیں کہ سچ، جو سورج سا عیاں ہے، دکھائی نہیں دیتا۔اور اسی دھند کے باعث جو صاحبان، لیڈران رقت آمیز لہجوں میں، یا صوفیوں کے ڈھب پر روشن مستقبل کی نوید سنا رہے ہیں، اُن سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا سراسرزیادتی ہوگی۔ ہمیںکچھ کوبہ ہرحال رعایت دینی چاہئے۔ ممکن ہے، وہ نیک نیتی سے ایسا کر رہے ہوں،جس طرح کسی زمانے میں ممتاز مفتی،اشفاق احمد اور بانوقدسیہ جیسے قلم کار کیا کرتے تھے، مگر یہ طے ہے کہ روشن مستقبل کے دعووں کے آگے گرد کی دیوار ہے۔
جیسے عرض کیا، ہماری اس اِس قنوطیت کا تعلق لوڈشیڈنگ جیسے عارضی مسئلے سے نہیں، گو اس نے شہریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اس کا ناتا قلت آب سے بھی نہیں، گو پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کا سمبندھ بے روزگاری سے بھی نہیں، گو روزگار انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہاں تک کہ اس کا رشتہ دہشت گردی سے بھی نہیں، جس کی وجہ سے ہماری مائوں کے دلوں میں خوف گھر کر گیا۔ دوسری طرف ملک میں بچھائی جانے والی سڑکیں، سی پیک منصوبہ، عالمی اداروں کے پرکشش معاہدے ، سرکار کے دعوے، تجزیہ کاروں کی پیش گوئیاں؛ سب مل کر بھی اِس قنوطیت کو توڑ نے میں ناکام ہیں۔
پہلے بھی لکھا تھا، پانچ بنیادی مسائل ہیں:ناخواندگی، ناانصافی، بے روزگاری، عدم تحفظ اورشعبۂ صحت کی زبوں حالی۔ جب تک یہ حل نہیں ہوں گے، جمہوریت اور میگا پراجیکٹس سے روشن مستقبل کی آس تو لگائی جاسکتی ہے، مگر حقیقی ترقی کا حصول،جس کے ثمرات آج امریکا اور یورپ میں نظر آتے ہیں،دشوار ہے۔ان پانچ مسائل کو حل کرنا صنعتی و تعمیراتی منصوبوں اور ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر ون ٹیم بننے سے زیادہ اہم ہے۔ اچھا، اِن پانچ دشوار گزار گھاٹیوں کے علاوہ ایک خلیج اور ہے۔ اصل چیلنج وہی۔ یہ مسلسل تقسیم در تقسیم ہونے کا عمل ہے۔ گروہوں میں، طبقات میں فرقوں میں بٹنے کا عمل۔ ایک دوسرے سے دور ہونے کا عمل۔ ایک سندھی ہے، تو دوسرامہاجر۔ ایک امیر ہے، تو دوسرا غریب، ایک دیوبندی ہے، تو دوسرا بریلوی، ایک اسلامسٹ ہے، تو دوسرا لبرل۔
اس تقسیم کے پیچھے غیروں کی سازش بھی ہو گی۔ بے شک بھارت سن 47ء سے ہمیں کمزور کرنے کے درپے ہے۔ پڑوسی اسلامی ممالک کے اپنے مسائل ، اپنی پالیسیاں ہیں، جو انھیں وقفے وقفے سے ہمارے خلاف لا کھڑا کرتی ہیں۔اس وقت بھی افغانستان اور ایران سے ہمارے تعلقات میں تلخی ہے۔امریکا کبھی ہمارا دوست نہیں رہا۔ آقا بننا اس کا مطمح نظر تھا اور ہے۔۔۔ تو بے شک اس تقسیم کو بڑھاوا دینے میں غیروں کی سازشیں بھی شامل ہوں گے، مگر اپنوں کی کوتاہیوں کی فہرست بھی طویل۔ آمریت ہو یا جمہوریت، سب نے اپنے مفادات کے لیے اس خلیج کو بڑھایا ہے۔
تقسیم کے لیے تذبذب سب سے موثر ہتھیار ہے، جوماضی کے مانند آج بھی بھرپور طریقے سے برتا جارہا ہے۔دور جانے کی ضرورت نہیں، تازہ واقعات میں اُس ابہام کی جھلک دیکھ لیجیے، جو اس ریاستی بیانیہ کی راہ میں چٹان بنا کھڑا ہے، جسے رائج کرنے کی خواہش تو بار بار دہرائی گئی، مگر اس کے نفاذ کے لیے سنجیدہ اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ مذہبی جامعات کی تقریبات میں علما سے نئے بیانیہ کی تشکیل کی درخواست کرنا کافی نہیں، نصاب میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ نصاب، جو ابہام کو جنم دینے کا اصل آلہ ہے۔ نصابی کتابوں میں، سوشل اسٹڈی اور پاکستان اسٹڈی کی کتابوں میں تاریخ نہیں۔۔۔ من پسند تاریخ درج ہے۔
بات دُور نکل جائے گی، جس تذبذب کا ہم شکار ہیں، اسے سمجھنے پرکھنے کے لیے ملالہ یوسف زئی کا کیس سامنے ہے۔ملالہ سے متعلق رائے عامہ بری طرح منقسم ہے۔ تقسیم میں کوئی مضائقہ نہیں، مگر جب تقسیم اتنی شدید ہو کہ غداری اور کفر کے فتوے داغے جانے لگیں، تو معاملہ حساس ہوجاتا ہے۔ ملالہ کے حامی اور مخالفین دو انتہائوں پر کھڑے ہیں۔ اور یہی صورت حال دیگر کیسز میں دکھائی دیتی ہے۔ ہود بھائی کا معاملہ دیکھ لیجیے۔ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ ادھر قندیل بلوچ پر فلم بننے کی خبر آئی، ادھر سوشل میڈیا پر گھمسان کا رن پڑا۔ ایک دوسرے کے بخیے ادھیڑ دیے گئے۔ مشال خان کیس ہی کو لیجیے۔ جس شخص پر توہین کا الزام عائد کر دیا جائے، وہ اگر مظلوم ہو، تب بھی اس کے حق میں آوازیں کم ہی اٹھتی ہیں۔ ابتدا میں اس محاذ پر بھی خاموشی تھی۔ خیبرپختون خوا کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے، جس نے پہلے پہل واضح موقف اختیار کیا، پھر وفاقی حکومت نے مذمت کی، کورٹ نے نوٹس لیا، یوں تذبذب کچھ گھٹا، مگر ختم نہیں ہوا۔ او رہونے بھی نہیں دیا جائے گا۔ اسی تذبذب کا ہم تب شکار ہوتے ہیں، جب اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر خودکش حملہ ہوتا ہے۔ اکثریت فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے کہ اُسے کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔ جب بھٹے پر کام کرنے والے مسیحی جوڑے کو جلادیا جاتا ہے، تب بھی عوام کچھ الجھ جاتے ہیں۔ جب لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکا ہوتا ہے، تب بھی شہری متذبذب نظر آتے ہیں۔ وہ مذمت کرتے ہیں، مگر کھل کر مذمت نہیں کرتے۔ مذمت میں اگر، مگر چوں کہ چنانچہ کی بھرمار ہوتی ہے۔
مذکورہ کیسوں کی نوعیت تو خصوصی ہے،یہاںتو عمومی معاملات میں بھی تذبذب کا عفریت پھنکار رہا ہے۔ ہم سائنس سے متعلق اب بھی کنفیوژ ہیں۔ پروفیسر اور ریسرچ اسکالر ہونے کے دعوے دار، بڑے اطمینان سے جنات سے بجلی پیدا کرنے اور کشش ثقل کو رد کرنے میںاپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق بھی ہمارا موقف واضح نہیں۔یہی معاملہ دولت کا ہے۔ ایک جانب ہمیں اس کی چاہ ، دوسری طرف ہم اُسے تمام برائیوں کی جڑ ٹھہراتے ہیں۔ ایک سمت جمہوریت کو بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے، دوسری جانب ہم تمام سیاست دانوں کوکرپٹ ٹھہراتے ہیں۔دنیا اور آخر ت سے متعلق بھی ہم متذبذب ہیں۔
کہاں تک سنائوں، کہانی یہ طویل ہے۔ قصۂ مختصر؛ہر وہ شخص، جو روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے،یا تو آپ کو دھوکا دے رہا ہے، یا پھر خود غلط فہمی کا شکار ہے۔کیوں کہ جب تک ہم بہ طورقوم تذبذب سے آزاد نہیں ہوں گے، وہ ریاستی بیانیہ تشکیل نہیںپاسکے گا، جو راہ ترقی کی نشان دہی کرتا ہے۔ اور جب تک یہ نشان دہی نہیں ہوگی، ہم ناخواندگی، ناانصافی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور شعبۂ صحت کی زبوں حالی جیسی گھاٹیاں عبور نہیں کرسکیں گے۔ اور جب تک یہ گھاٹیاں عبور نہیں ہوں گے۔۔۔ ریاست کی تابناکی کا ہر دعویٰ حقیقت کی کسوٹی پر خام نکلے گا۔