تاریخ تین چیزوں کے تذکرے کا نام ہے: عظیم جنگوں کا تذکرہ، عظیم سورمائوں کا تذکرہ اور عظیم شہروں کا تذکرہ!
اور شہروں کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔شہر، جو وسیع و عریض ریاستوں کی علامت ہوتے ہیں۔ وہیں دانائوں اور سورمائوں کا جنم ہوتا ہے، اور ان ہی کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی جاتی ہیں۔تاریخ دراصل ایتھنز، روم،بغداد،ماسکو، بیجنگ، برلن،استنبول، بوسٹن اور دہلی ہی کا تذکرہ ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب جب عظیم شہر تباہ ہوئے،نہ صرف اُن معاشروں کا علمی، ادبی اور ثقافتی ورثہ متاثر ہوا، بلکہ ارتقائی عمل بھی بے سمتی کا شکار ہوگیا۔۔۔اوریہی سانحہ کراچی کے ساتھ رونما ہونے کو ہے۔
آج جب ملک کے دیگر حصوں میں مردم شماری کے نتائج سے نئی حلقہ بندیوں کا امکان جنم لے رہا ہے، کراچی میںاِن نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیاجا رہا ہے۔ جب دیگر علاقے ترقی کی سمت قدم بڑھا رہے ہیں، کراچی اپنے کچرے تلے دبا جارہا ہے۔آج جب بڑی جماعتیں خود کو لاہور کا وارث ثابت کرنے کے لیے این اے 120 میں زور مار رہی ہیں، کراچی لاوارث ہوتا جارہاہے۔ کراچی ۔۔۔ جہاں صدیوں قبل سکندر اعظم خیمہ زن ہوا ،جسے عرب تاجر دیبل کہہ کر پکارتے تھے،جس کے گرد اٹھارویں صدی میں ایک پرشکوہ فصیل تعمیر ہوئی تھی، آج یاسیت اور مایوسی سے اٹ چکا ہے۔ یہ ساحلی شہر وفاق کی علامت بن سکتا تھا، اپنی اُس عظمت کو برقرار رکھ سکتا تھا،جو انگریز وں کی کاوش تھی، قائد اعظم کی جانب سے دارالحکومت چنے جانے کے فیصلے پر پورا اتر سکتا تھا، مگر شومئی قسمت، بٹوارے کے بعد وہ تمام اصول، جو پاکستان کی بنیاد تھے،پس پشت ڈال دیے گئے۔غلام محمد کے دور میں بیوروکریسی کی سازشوں کا آغازہوا، نظریہ ضرورت کا جنم ہوا، مارشل لا کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ آخر ایوب خان نے اقتدار سنبھال لیا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور کراچی میں لسانی تقسیم کی بنیاد تو پہلے ہی رکھ دی گئی تھی، مگر عمارت ایوب دور میں تعمیرہوئی۔دارالحکومت منتقل ہوا۔پھر صدارتی انتخابات میں اِسے فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کی سزا دی گئی۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد یہ پھر سندھ کے حصے میں آگیا۔بعد کی کہانی تاریخ کا حصہ ہے۔
کراچی جیسے وسیع و عریض شہر کو سنبھالنا، جہاں کئی زبانیں، کئی ثقافتیںساتھ ساتھ چلتی ہوں،صوبائی حکومتوں کے بس کی بات نہیں۔ ایسے بڑھتے، پھیلتے شہر وفاقی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ جمہوری اصول ، معروضی حقائق کراچی کوسندھ سے علیحدگی کا بھی حق دیتے ہیں، مگر اب یہ موضوع متنازع ہوگیا ہے۔ اسے کیپٹل کو سونپے کا مطالبہ بھی شاید سیاست کی نذر ہوجائے ۔ ایسے میں ایک ہی امکان رہ جاتا ہے کہ کوئی وفاقی جماعت آگے بڑھے، یہاں سے منتخب ہو، اِس کی باگ ڈور سنبھالے۔
آج ملک میں دو وفاقی جماعتیں ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی۔ ن لیگ تین بار حکومت میں آئی، مگرکبھی مدت پوری نہ کرسکی۔ تینوں بار میاں نواز شریف کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔ تازہ واقعہ دیکھیے۔ پاناما کیس میں میاں صاحب کی نااہلی پر کراچی کی اکثریت یا تو لاتعلق رہی یا پھر اِسے درست ٹھہراتی نظر آئی۔ جب یوسف رضا گیلانی کوعہدہ چھوڑنا پڑا تھا، تب بھی یہی رویہ دیکھا گیا۔ اگرملک کا سب سے بڑا شہرپی پی اور ن لیگ کے وزرائے اعظم کی رخصتی پر یکسر خاموش رہتا ہے، تو سبب یہ ہے کہ اِن جماعتوں کے ایجنڈے میں کراچی غیرمتعلقہ ہے۔انھوں نے اگرشہر پر توجہ دی بھی، تو سرسری۔ ن لیگ نے ادھر خود کو مستحکم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ہاں، پی پی کراچی کے چند علاقوں میں ووٹ بینک رکھتی ہے، مگر اس کی ترقی میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ وفاقی جماعتوں کی اس غفلت کے باعث کراچی کے ووٹرز، جن میں اردو اسپیکنگ کی اکثریت ، کی توجہ کا محور ایک شہری جماعت بن گئی، اور یہ تھی ایم کیو ایم۔
نہ صرف سندھ، بلکہ دیگر صوبوں میں بھی ایم کیو ایم کا امیج منفی ہے۔ اِسے ایک لسانی جماعت تصورکیا جاتا ہے، جس کی سیاست میں تشدد اور خوف کا عنصر نمایاں رہا۔گو تمام سیاسی جماعتوں میں یہ خامیاں پائی جاتی ہیں، مگر کراچی میں تواتر سے ہونے والے لسانی فسادات،ایم کیو ایم کی قیادت کے غیرذمے دارانہ رویے اور شہر کی صنعتی حیثیت کی وجہ سے اِس جماعت کی خامیاںابھرکر سامنے آئیں۔2013 کے بعد ہونے والا آپریشن ، ماضی کے آپریشنز سے مختلف اور موثرتھا۔ایم کیو ایم کا عسکری ونگ نشانہ بنا۔پی ایس پی تشکیل پائی۔ 22 اگست نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ ایسے میں موقع تھا کہ دیگر جماعتیں آگے بڑھ کرسیاسی خلا پُر کرتیں، مگر ن لیگ نے توجہ پنجاب پر مرکوز رکھی۔ پی پی نے اندرون سندھ پر انحصار کیا۔پی ٹی آئی کی غفلت کے تذکرے کے لیے الگ دفتر درکار۔وقت نئی جماعتوں کا متقاضی تھا۔کچھ روز ادھر جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کی قیادت میں ''عام لوگ اتحاد‘‘ نامی پارٹی قائم ہوئی۔ جسٹس صاحب سے میری عقیدت اپنی جگہ،مگر ایسے جمہوری سیٹ اپ میں، جہاں دولت اور بااثر افراد کے بنا الیکشن جتنا کٹھن، اِس نومولود نظریاتی جماعت کے لیے کراچی میںجگہ بناناگوناممکن نہیں ، مگر دشوار ضرور ہے۔
توایسے میں ، یہ حقیقت تسلیم کر لیجیے، ایم کیو ایم آج بھی کراچی کے ووٹرز کے اکلوتا انتخاب ہے۔جی ،پتنگ کا نشان اثر رکھتا ہے۔ رینجرزآپریشن، پی ایس پی کی آمد اور 22 اگست کے بعد بانی قائد سے لاتعلقی؛ بے شک اِن عوامل نے جماعت کو نقصان پہنچایا۔ اس کی قوت بکھر گئی۔یہ دیوار سے لگ گئی،اور ناپسندیدہ ٹھہری۔ان کٹھن حالات میں کثیر الجماعتی کانفرنس ایم کیو ایم کی پہلی کامیابی تھی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اِسے لاحاصل ٹھہرایا، مگر معاملہ اس کے برعکس ہے۔دیگر جماعتوں کی جانب سے اِس کا بائیکاٹ متوقع تھا کہ ایک معنوں میں یہ اُن ہی کے خلاف تھی۔ اِس کوشش کا ایک مقصد اُن اردو اسپیکنگ ووٹرز کو متوجہ کرنا تھا، جو حالات کی وجہ سے متذبذب تھے۔اور دوسرا مقصد ایک اینٹی لندن پلیٹ فورم بنانا تھا۔
کراچی پریس کلب میں، وہی پریس کلب، جہاں جناب منہاج برنا کی قیادت میں 77-78 کی صحافتی تحریک کا آغاز ہوا تھا، گزشتہ دنوں چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی صدارت میں ''کیا پاکستان کے لیے جمہوریت ضروری ہے؟‘‘کے زیر عنوان ایک سیمینارہوا، جس میں فاروق ستار، نثار کھوڑو، آفاق احمد، حاصل بزنجو،اسد اللہ بھٹو،علی زیدی سمیت کئی اہم سیاسی و صحافتی شخصیات نے شرکت کی۔ معروف اسکالر اور اینکر،انیق احمد نے بھی اظہار خیال کیا۔گو موضوع زیادہ موزوں نہ تھا، اور بیش تر سیاسی شخصیات نے اپنی جماعت کا موقف بیان کرنے کوترجیح دی،مگر پھر بھی چند اہم امور زیر بحث آئے۔فاروق ستار کا یہ نکتہ قابل غور تھاکہ جب ایم کیو ایم اپنے خلاف آپریشن پر تحفظات کا اظہار کیا کرتی تھی ، تب دیگر سیاسی جماعتیں اُنھیں سہولت سے رد کر دیتیں، مگر پھر پی پی بھی زیر عتاب آئی، اورن لیگ بھی۔اِسی تناظر میں اُنھوں نے احمد فراز کا یہ شعر پڑھا:
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
فاروق ستار کا تناظر سیاسی ہوسکتا ہے۔ البتہ کراچی کے ممکنہ خراب حالات کے تناظر میں بھی یہ شعر اپنے اندر دیگر شہروں کے لیے ایک پریشان کن پیغام رکھتا ہے۔
نوٹ: عید کے روز ایم کیو ایم کے مرکزی لیڈر، خواجہ اظہارالحسن پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ یہ سنگین واقعہ گزشتہ چار برس سے قائم امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ اس نوع کے مزید واقعات کا خطرہ ہے، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔