"KMK" (space) message & send to 7575

بے برکتی اور جہانگیر مخلص کا مکالمہ

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا مال اس ملک میں ہر طرف پھیلی ہوئی بے برکتی کا ذمہ دار میں حکمرانوں کو ٹھہرانے کے بجائے یہ کہوں گا کہ یہ ہماری شامتِ اعمال ہے کہ ہم پر اس طرح کے حکمران مسلط کر دیے گئے کہ برکت نامی شے اس ملک سے کوچ کر گئی ہے۔ اس ملک کی اشرافیہ عوام کی جیب کاٹ کر اپنی جیبیں بھرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن افسوس صرف اس بات کا نہیں کہ حکمران عوام کو لوٹ رہے ہیں‘ یہ دکھ الگ تکلیف دے رہا کہ اس ساری لوٹ مار کے باوجود ہم فُقرے کے فُقرے ہیں اور ملک قرضوں پر چل رہا ہے۔ ملال تو یہ ہے کہ عوام کے کپڑے اتارنے کے باوجود حکومت کے اپنے تن پر بھی کچھ نہیں۔ نہ عوام کے پاس کچھ باقی بچا ہے اور نہ ہی سرکار کی جیب میں کچھ دکھائی دے رہا ہے۔ بے برکتی اسی کو کہتے ہیں کہ کسی کا بھی کچھ نہیں بن رہا۔ لٹنے والے تو خیر سے لٹ ہی رہے ہیں‘ لوٹنے والوں کا بھی حال کچھ کم بُرا نہیں۔ حکمرانوں سے میری مراد اُن کی ذات نہیں بلکہ ریاست کے نمائندگان ہیں۔ وگرنہ ذاتی طور پر حکمران‘ اشرافیہ اور مافیاز کے پو بارہ ہیں۔ یعنی پنجے گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔
میں نے اپنے اس کالم کا یہ ابتدائی حصہ دو قسطوں میں لکھا ہے اور ابھی معلوم نہیں کہ مکمل ہونے تک بجلی کتنی بار جائے گی۔ گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران بجلی دو مرتبہ گئی ہے اور اللہ جانے ابھی مزید کتنی بار جائے گی۔ ابھی کالم لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ بجلی چلی گئی۔ کاغذ قلم کو ایک طرف رکھا اور بجلی کی آمد کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ آدھ گھنٹے بعد بجلی آئی تو سکھ کا سانس لیا مگر یہ بہرحال میری ہی حماقت تھی کہ میں یہ تصور کرتے ہوئے کہ اب بجلی کم از کم دو چار گھنٹے تو رخِ روشن دکھاتی رہے گی‘ کافی بنا کر پینے بیٹھ گیا۔ اس کے بعد کالم مکمل کرنے کا ارادہ تھا مگر کالم مکمل کرنا تو رہا ایک طرف‘ کافی کا آدھا کپ اندھیرے میں پینا پڑا۔ یہ صرف ملتان کا حال نہیں۔ کسی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ اس وقت ساری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں اور اسلام آباد ہے کہ اس وقت اندھیرے میں ہونے کی وجہ سے کسی کو دکھائی نہیں دے رہا۔
بات بے برکتی کی ہو رہی تھی‘ صورتحال یہ ہے کہ ملک کی ہر چھوٹی بڑی سڑک پر چالیس پچاس کلو میٹر کے بعد سرکار کا ٹول پلازہ سڑک سے گاڑی گزارنے کا عوضانہ وصول کر رہا ہے۔ موٹروے پر کار سے لے کر ٹرالر تک ہر سفر پر سینکڑوں نہیں ہزاروں روپے ٹول ٹیکس دے رہے ہیں۔ لاہور‘ اسلام آباد اور پشاور وغیرہ کے ٹول پلازوں پر ٹیکس ادا کرنے والی گاڑیوں کی طویل قطاریں ظاہر کر رہی ہیں کہ سرکار کو اس مد میں کتنی رقم روزانہ وصول ہو رہی ہے۔ لیکن بے برکتی کا یہ عالم ہے کہ یہ سارا ٹیکس وصول کرنے والا ادارہ این ایچ اے یعنی نیشنل ہائی وے اتھارٹی پاکستان کے سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ نقصان میں جانے والا ادارہ ہے۔ این ایچ اے کا نقصان پی آئی اے‘ ریلوے‘ سٹیل ملز‘ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں‘ پی ایس او اور اسی طرح کے دیگر سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ ہے۔ پی آئی اے اس ملک میں دیگر ہوائی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ کرایہ لینے کے باوجود خسارے میں ہے۔ پاکستان میں چلنے والی نجی ہوائی کمپنیاں نسبتاً کم کرایہ لینے کے باوجود نفع کما رہی ہیں۔ پاکستان میں بجلی خطے کی سب سے مہنگی بجلی ہے لیکن بے برکتی کا یہ عالم ہے کی فی کلو واٹ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے باوجود تقسیم کار کمپنیاں نقصان میں ہیں۔ دس روپے میں سولر یونٹ خرید کر پچاس روپے میں بیچنے کے باوجود کمپنیاں خسارہ اور عوام لوڈ شیڈنگ بھگت رہے ہیں۔ دنیا بھر میں سٹیل بے پناہ منافع بخش کاروبار تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت میں مِتل فیملی نے سٹیل کی صنعت سے اربوں روپے کی بزنس ایمپائر کھڑی کر لی ہے۔ سارے ملک کی فولاد کی ضروریات پوری کرنے کیلئے صرف ایک سٹیل ملز تھی جو چلتی تھی تو محض ہاتھی تھی‘ اب بند پڑی ہے تو سفید ہاتھی بن گئی ہے۔ خطے میں سب سے مہنگا تیل ہم پاکستانی خریدتے ہیں اور سرکاری آئل کمپنی ریکارڈ نقصان کر رہی ہے۔ کسی نے کیا خوب سوال کیا کہ ساری دنیا کے ممالک عالمی معاشی اداروں کے قرضدار ہیں۔ ہر ملک اپنا خسارہ قرضے لے کر پورا کر رہا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی بڑی معیشتیں قرض پر چل رہی ہیں۔ امریکہ‘ جاپان‘ جرمنی‘ فرانس‘ برطانیہ‘ اٹلی‘ بھارت‘ سنگاپور‘ تائیوان اور کوریا تک قرضوں سے کام چلا رہے ہیں۔ ہم تو رہے ایک طرف‘ صنعتی اور اقتصادی طور پر دنیا کے مضبوط ترین ممالک بھی قرضدار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سب ملک قرضدار ہیں‘ تمام کا بجٹ خسارے میں ہے تو آخر پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
ہمارا سوال بھی یہی ہے کہ ٹول ٹیکس سب سے زیادہ ہے وصول کرنے والا ادارہ خسارے میں ہے۔ جہاز کی ٹکٹ سب سے مہنگی ہے اور ہوائی کمپنی گھاٹے میں ہے۔ بجلی سب سے مہنگی ہے مگر تقسیم کار کمپنیاں نقصان میں جا رہی ہیں۔ تیل سب سے مہنگا ہے اور تقسیم کار کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ کپڑے عوام کے بھی اُتر رہے ہیں اور سرکار کے تن پر بھی کچھ نہیں۔ عوام لٹ رہے ہیں لیکن حکومت کی جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں تو پھر یہ بے برکتی نہیں تو اور کیا ہے؟ حکمرانوں کی نا اہلی‘ نالائقی اور بدنیتی اپنی جگہ لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں گزشتہ 78سال سے مسلسل اسی قسم کے حکمران نصیب ہو رہے ہیں؟ ایمانداری کی بات ہے کہ ایسے حکمرانوں کا مسلط ہونا ہمارے شامتِ اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم پر ویسے ہی حکمران مسلط کر دیے گئے ہیں جیسے ہمارے کرتوت تھے۔ ہمیں ہماری حرکتوں کی سزا اسی دنیا میں مل رہی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ عوام بھی لٹ رہے ہیں اور حکومت کا بھی کچھ نہیں بن رہا۔ ہمارا بھی نقصان ہو رہا ہے اور حکومت بھی فائدے میں نہیں جا رہی۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں نامور سرائیکی شاعر جہانگیر مخلص کا اپنے ایک دوست کے ساتھ ہونے والا مکالمہ یاد آ رہا ہے۔ پہلے یہ مکالمہ اُس کی اصل زبان یعنی سرائیکی میں اور پھر اس کا ترجمہ۔
سعید خان آکھے: مخلص فلانٹراں بندہ میں کنوں تیڈی کتاب گھن گیے تے ولانِسی ڈِتی۔ میں آکھئیم: سعید خان‘ او کتاب کیوں گھِن گیے ناں اوکُوں کتاب پڑھن دی عادت ہے تے نہ ہی او کتاب پڑھ سگدیے۔ سعید خان کوڑیج تے آگھئیس: مخلص‘ کاں جو صابن چاویندے دھمدا تاں نَیں‘ بس نامراد نیں نقصان جو کرناں تھیا۔ (سعید خان نے کہا: مخلص‘ فلاں آدمی مجھ سے تمہاری کتاب لے گیا ہے اور پھر اس نے واپس نہیں کی۔ میں نے کہا: سعید خان وہ کتاب کیوں لے گیا ہے؟ نہ تو اسے کتاب پڑھنے کی عادت ہے اور نہ ہی وہ کتاب پڑھ سکتا ہے۔ سعید خان آگے سے جل کر بولا: مخلص! کوّا جو ہمارا صابن اٹھا کر لے جاتا ہے نہاتا تو نہیں۔ بس نامراد نے ہمارا نقصان کرنا ہوتا ہے)۔
میں نے اس مکالمے کو سرائیکی میں کئی بار پڑھا ہے اور ہر بار الگ لطف لیا ہے۔ حالانکہ مجھے علم ہے کہ میں نے ترجمہ درست کیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس کا مزہ اصل مکالمے کا عشر عشیر بھی نہیں۔ زمین سے جڑی ہوئی زبانوں کا لفظی ترجمہ تو ہو سکتا ہے لیکن اس لطف کا ترجمہ ممکن نہیں جو اندر تک محسوس ہوتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں