جنگ میں سب سے پہلے سچ کی موت واقع ہوتی ہے۔ (امریکی سیاستدان اور مصنف، ہیری برائون)
جنگ کے دنوں میں سچ اس قدر قیمتی ہوتا ہے کہ اسے ہمیشہ جھوٹ کے باڈی گارڈز حفاظتی حصار میں لیے پھرتے ہیں۔ (ونسٹن چرچل)
سوشل میڈیا پر جنگ زدہ شامیوں کی دل فگار تصویریں اور ویڈیوز دیکھتا ہوں تو روح تک کانپ اٹھتی ہے، انسانیت جوش کھاتی اور مسلمانیت بلبلاتی ہے مگر برا ہو اسِ حسِ صحافت کا جو میری حالتِ زار پہ مسکراتی ہی نہیں بلکہ ہنہناتی ہے اور پے در پے سوالات اٹھاتی ہے۔ جنگ جہاں قدم جماتی ہے وہاں تو کھلیان بنجر ہو جاتے ہیں، دریا سوکھ جاتے ہیں۔ ایک آفت زدہ ملک‘ جہاں بم دھماکے اور گولی سے بچ رہنے والے ہر شخص کو بھوک اور افلاس جیسے بے حم دشمن کا سامنا ہے، کیا وہاں سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ دستیاب ہونے کی ایسی مثالی صورت ممکن ہے کہ اُدھر کیمیائی حملہ ہو اور اِدھر سوشل میڈیا پر ہاہاکار مچ جائے؟ مجھ ایسے لوگوں‘ جن کے فرینڈز یا فالوورز میں کوئی بھی عرب یا شامی نہیں، تک بھی یہ ہولناک تصاویر اور ویڈیوز پلک جھپکنے میں پہنچ جائیں؟ اس مواد کو ثواب دارین کی نیت سے آگے پہنچانے والے سوشل میڈیائی مجاہدین اسلام کو کیا خبر کہ یہ تلبیس اطلاعات کا دور ہے جہاں سچ اور جھوٹ کی تمیز مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہو گئی ہے۔ یہ بے پر کی اس لیے اڑائی جاتی ہیں کہ حملے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ جب اذہان و قلوب کا لوہا سوشل میڈیا سے گرما لیا جاتا ہے تو پھر چوٹ لگائی جاتی ہے۔ وہی ڈونلڈ ٹرمپ جسے کل تک دنیا بھر کے مسلمان جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیا کرتے تھے، آج لگی لپٹی رکھے بغیر کہ رہے ہیں، کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی، قدرت کا نظام دیکھیں، فرعون کے گھر ہی موسیٰ پیدا ہوتا ہے۔ اللہ کا قانون ملاحظہ کریں ایک ظالم کے ہاتھوں دوسرے ظالم کا قلع قمع ہوتا ہے۔ ویسے کیا خیال ہے، یہ ٹرمپ اتنا برا بھی نہیں جتنا میڈیا نے بنا دیا ہے۔ مسلم دنیا ہی کیا‘ امریکہ میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ کے غیر مقبول ترین صدر بنتے جا رہے تھے مگر اتنی تیز رفتاری سے ٹاماہاک کروز میزائل نے فاصلہ طے نہیں کیا جتنی برق رفتاری سے ٹرمپ کی ریٹنگ اوپر گئی۔
جنگ موجودہ دور کا سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔ جب جنگ کا خطرہ منڈلاتا ہے تو سب سے پہلے معیشت کا دل گھبراتا ہے اور اسٹاک ایکسچینج کا سانس اکھڑتا ہے‘ مگر اس گورکھ دھندے کا کمال دیکھیں کہ بحیرہ روم میں امریکی بحری جہاز کے عرشے سے ٹاماہاک کروز میزائل داغے جاتے ہی نہ صرف نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کا گراف اوپر چلا گیا بلکہ امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے شیئرز بھی آسمانوں سے باتیں کرنے لگے۔ طرفہ تماشا دیکھئے کہ حملہ آور امریکہ ہے، نشانے پر شام ہے مگر اس کے اثرات ماسکو میں دکھائی دیئے جہاں روسی معیشت ہچکولے لیتی نظر آئی۔ اب ہمارے بھولے بادشاہ کیا جانیں کہ 2013ء میں بھی بشارالاسد پر کیمیائی حملہ کرنے کا الزام لگا‘ اور یہی ٹرمپ بھائی تھے جنہوں نے اپنی ٹویٹ میں اوباما کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا: ''شام پر حملہ نہ کرنا، اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اپنا ''پائوڈر‘‘ کسی اور (زیادہ اہم ) دن کے لیے بچا کر رکھو۔‘‘ اس پر دل نہیں بھرا تو ایک اور ٹویٹ لکھی: ''میں اپنے بہت ہی احمق قائد سے پھر کہتا ہوں، شام پر حملہ نہ کرنا۔
اگر حملہ کیا تو بہت برا ہو گا اور امریکہ کو اس لڑائی سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔‘‘ بیچارے ٹرمپ بھائی کیا کرتے، گندا ہے پر دھندا ہے۔ چاروناچار حملے کا کڑوا گھونٹ بھرنا ہی پڑا۔ نپولین بونا پارٹ نے ایسے تو نہیں کہ دیا تھا ''فوجیں معدے کے بل بوتے پر چلتی ہیں‘‘ اور امریکہ بہادر کی معیشت کا تو دارومدار ہی جنگ کی صنعت پر ہے۔
ہوش کے بجائے جوش سے کام لینے والے پاکستانیوں کو معلوم نہیں کہ گزشتہ برس اسلحہ ساز 100 بڑی کمپنیوں‘ جنہوں نے 402 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان بیچا‘ میں سے 37 امریکہ کی ہی ہیں۔ اسلحہ سازی کے میدان میں سب سے زیادہ منافع کمانے والی ٹاپ ٹین کمپنیوں کی فہرست اٹھا کر دیکھیں تو 6 کمپنیاں صاحب بہادر کی ہیں‘ اور ٹاماہاک کروز میزائل بنانے والی سانجھے دار کمپنی لاک ہیڈ اینڈ مارٹن‘ جس نے ہمارے ایف سولہ طیارے نہیں دیے، صرف اس ایک کمپنی نے گزشتہ برس 76 ارب ڈالر کمائے۔ 1983ء سے فاصلاتی جنگ میں امریکہ کا مہلک اور موثر ترین ہتھیار سمجھا جانے والا ٹاماہاک کروز میزائل کتنا مہنگا ہے‘ کسی کو خبر ہے کیا؟ ایک میزائل کی قیمت 10 لاکھ ڈالر ہے، امریکی بحریہ نے بحیرہ روم میں موجود بحری بیڑے سے 59 میزائل فائر کیے جن کی مالیت پانچ کروڑ 90 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ اب کس میں اتنا دم ہے کہ امریکہ بہادر سے پوچھے، حضور والا! مظلوموں کا ساتھ دینا اور محکوموں کے ساتھ کھڑے ہونا آپ کی تابناک روایات کا حصہ ہے اسی لیے آپ جناب نے کیمیائی حملے کی خبر ملتے ہی اس قدر قیمتی میزائل داغ ڈالے۔ آپ کو ناگوار نہ گزرے تو بتا دوں کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران شام سے 30 لاکھ مہاجرین نے بیرون ملک نقل مکانی کی اور تقریباً 65 لاکھ شامی شہری اپنے ہی ملک میں مہاجر کی حیثیت سے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث گزشہ برس سے ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت ان شامی مہاجرین کو غذائی اجناس کی فراہمی معطل کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر 1.3 ارب ڈالر کا بندوبست ہو جائے تو شام کے تمام مہاجرین کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ اگر آپ اپنا
پائوڈر کسی اور دن کے لیے بچا کر رکھتے اور اس قدر قیمتی میزائل فائر کرنے کے بجائے پانچ کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم اقوام متحدہ کے حوالے کر دیتے تو ان لاکھوں مہاجرین کی زندگیاں بچ جاتیں جو کیمیائی حملے کے بجائے غربت کے جہنم میں بھسم ہوئے جاتے ہیں۔ آپ اگر شامی بچوں کی محبت میں اتنے ہی نڈھال ہوئے جاتے ہیں تو کم از کم اپنے ملک کی سرحدیں ہی کھول دیں ان کے لیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شام پر ایک مطلق العنان حکمران براجمان ہے اور آپ جمہوریت کے پتھارے دار ہیں مگر جان کی امان پائوں تو عرض کروں، کیا دیگر عرب ممالک میں جمہوریت کی فروانی و ارزانی ہے کہ سب مل کر شام کی درگت بنانے اور جمہوریت لانے پر اُدھار کھائے بیٹھے ہیں؟ مصر میں تو انقلاب کے نتیجے میں سلطانیء جمہور کی صبح خوش جمال طلوع ہوئی تھی مگر آپ کی تائید و حمایت سے جنرل سیسی نے مُرسی کا تختہ الٹ دیا۔
امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ جمہوریت کے موضوع پر بھاشن دے رہے تھے کہ کسی نے نکاراگوا کے ڈکٹیٹر جنرل سموزا کے بارے میں سوال کر دیا۔ روزویلٹ نے مسکراتے ہوئے کہا:
''Yes he is bastard but he is our bastard‘‘
جنگ موجودہ دور کا سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔
جب جنگ کا خطرہ منڈلاتا ہے تو سب سے پہلے معیشت
کا دل گھبراتا ہے اور اسٹاک ایکسچینج کا سانس اکھڑتا ہے‘
مگر اس گورکھ دھندے کا کمال دیکھیں کہ بحیرہ روم میں
امریکی بحری جہاز کے عرشے سے ٹاماہاک کروز میزائل
داغے جاتے ہی نہ صرف نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کا
گراف اوپر چلا گیا بلکہ امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے
شیئرز بھی آسمانوں سے باتیں کرنے لگے۔