جب سے پاکستان میں اصلی اور نسلی جمہوریت 2008ء کے الیکشن کے بعد متعارف کرائی گئی‘ اس کے بعد مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کوئی سال ایسا گزرا ہو جس سال قومی ایوارڈز کا اعلان متنازع نہ ہوا ہو۔ اگرچہ یہ کام بہت پرانا ہے‘ اور ہر دور میں حکومتیں اور سول وعسکری حکمران اپنے اپنے پسندیدہ لوگوں اور شخصیات کو ایوارڈز دیتے آئے ہیں۔ شاید ہی کوئی حکومت ایسی ہو جس نے ان لوگوں کو ایوارڈز دیے جو ان کے نزدیک ناپسندیدہ تھے۔ پھر ایوارڈز کی اتنی کیٹیگریز بن چکی ہیں کہ اب کم ازکم پچاس‘ سو لوگوں کے ناموں کا اعلان ہوتا ہے‘ جن میں سول ملٹری شخصیات بھی شامل ہوتی ہیں۔ پھر ایک اور کیٹیگری بھی متعارف کرائی گئی‘ جو غیر ملکی شخصیات کی ہے۔ انہیں بھی ہر سال ایوارڈز دیے جانے لگے۔ چلیں مان لیا کہ سفارتی تعلقات کی ضرورت ہوگی کہ دوست ملکوں کی اہم شخصیات کو نشانِ پاکستان دیا جائے لیکن جب آپ درجنوں کے حساب سے ایوارڈز بانٹیں گے تو پھر کس کو یاد رہے گا کہ کس کس کو ایوارڈ ملا ہے۔ کتنے لوگوں کو یاد رہتا ہے کہ پچھلے سال کن لوگوں کو ایوارڈ ملا تھا؟ میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر کہیں پر مقابلہ ہو رہا ہو اور یہ سوال پوچھا جائے کہ کوئی پانچ نام بتائیں جنہیں پچھلے سال نیشنل ایوارڈز سے نوازا گیا تو شاید کوئی دو نام تک نہ بتا پائے گا۔ کالم پڑھنے والے کیا بغیر گوگل کیے بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کتنے نام یاد ہیں؟ اکثر لوگوں کو خود دوسروں کو بتانا پڑتا ہے کہ انہیں ایوارڈ ملا ہے۔
اس کا ذمہ دار کون ہے کہ اب ایوارڈز اپنی اہمیت کھو چکے ہیں؟ شاید ہر بندہ اب ریاست سے ایوارڈ لینا چاہتا ہے۔ اس کیلئے کئی ماہ پہلے لابنگ شروع ہو جاتی ہے۔ سیاسی افراد سے لے کر بیورو کریٹس تک کی سفارش چلتی ہے۔ میں ذاتی طور پر کچھ لوگوں کی کوششوں کا گواہ ہوں جو وہ ان ایوارڈز کی لسٹ میں نام ڈلوانے کیلئے کرتے رہے۔ اب تو یہ بات حیران کن لگتی ہے کہ حکومت لوگوں سے خود رابطہ کرتی ہو گی کہ ہم آپ کا نام ایوارڈز لسٹ میں ڈالنے لگے ہیں‘ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔ عموماً حکومت کسی کا نام فائنل کرنے سے پہلے اس سے اس کی مرضی ضرور پوچھتی ہے کہ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے تاکہ آخری لمحے پر وہ ایوارڈ لینے سے انکاری نہ ہو جائے۔
مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے استاد محترم ڈان کے ضیاء الدین مرحوم کو بھی ایوارڈ دینے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے ایک ہی لائن میں بات ختم کر دی کہ صحافی کبھی حکومتوں سے ایوارڈ نہیں لیتے۔ ان کا مطلب تھا کہ اگر صحافی سرکار سے ایوارڈ لیں گے تو پھر صحافت خاک کریں گے۔ وہ لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ کھو بیٹھیں گے۔ صحافی کے پاس اعتماد اور ساکھ کے علاوہ رکھا ہی کیا ہے۔ اگر آپ نے سرکار کا ایوارڈ لے لیا تو آپ سرکاری صحافی سمجھے جائیں گے۔ لیکن دوسری طرف ایک اور سکول آف تھاٹ بھی ہے‘ جو سمجھتا ہے حکمران جیب سے آپ کو ایوارڈ نہیں دے رہے ہوتے۔ یہ ایوارڈ ریاست دیتی ہے جو آپ کی بھی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ میں ایک انگریزی اخبار میں رپورٹر تھا تو میرے خلاف میرے اخبار کے مالک کو وزارتِ اطلاعات کی طرف سے شکایت کی گئی۔ مالک نے مجھے بلایا اور کہا: وہ آپ کو کھانے پر ملنا چاہتے ہیں‘ دعوت دیتے ہیں لیکن آپ ان سے نہیں ملتے‘ کیا وجہ ہے؟ میں نے بڑے فخر سے کہا: سر! وہ دراصل پہلے کھانے کھلاتے ہیں اور پھر بعد میں یہ توقع رکھتے ہیں کہ اب ان کے کہنے پر میں حکومت مخالف خبریں فائل نہیں کروں گا۔ اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ ان سے کھانے نہ کھایا کروں تاکہ خبریں بغیر کسی رکاوٹ کے فائل کرتا رہوں۔ کچھ بھی ہو‘ میل ملاپ‘ کھانے پینے سے بندے کی آنکھ میں کچھ شرم آ جاتی ہے۔ اخبار کے مالک نے مجھے دیکھا اور ایک ایسی بات کی جس نے میری سوچ کا زاویہ بدل دیا۔ کہنے لگے: آپ کہہ رہے ہیں کوئی آپ کو کھانا کھلا دے یا آپ سے مل لے تو پھر آپ خبرفائل نہیں کریں گے؟ آپ کو اگرکوئی بلاتا ہے تو اس وجہ سے کہ آپ صحافی ہیں۔ آپ نے سب سے ملنا ہے لیکن خبر فائل نہ کرنے کی ضمانت تو آپ نہیں دے رہے‘ نہ اس شرط پر آپ کو کوئی بلا رہا ہے۔ آپ حکومتی لوگوں سے بھی ملا کریں لیکن خبر وہ فائل کریں جو آپ کا خیال ہے کہ واقعی خبر ہے اور چھپنی چاہیے۔ اس ایک جملے نے میری سوچ بدل دی کہ صحافی خبروں پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتا۔ اس لیے اگر صحافیوں کو ایوارڈز ملتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ خبر پر کمپرومائز کرے گا یا اپنے تبصروں میں اس لیے ہاتھ ہولا رکھے گا کہ اسے ایوارڈ ملا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر صحافت کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے۔
ایوارڈ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ ہر صحافی خود کرتا ہے۔ ضیاء الدین صاحب جیسے صحافی انکار کر دیتے تھے لیکن کچھ ہیں جو ایوارڈ لیتے ہیں اور حکومت پر مناسب تنقید بھی کرتے رہتے ہیں۔ دراصل جب حکومت ایسے لوگوں کو بھی ایوارڈ دے گی جو مستحق نہیں ہوں گے تو لوگوں کی آنکھوں میں اچھے لوگوں کو ملنے والے ایوارڈز کی قدر بھی کم ہو جائے گی۔ ان ایوارڈز کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ ان کی تعداد ہے۔ جتنی تعداد زیادہ ہو گی اتنی ان کی قدر کم ہو گی۔ اگر لوگوں کو آسکر ایوارڈز یافتہ اداکاروں کے نام برسوں یاد رہتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک تو اس کا کرائی ٹیریا بہت اعلیٰ اور شفاف ہے اور دوسرا اس کی کیٹیگریز بہت کم ہیں۔
اس طرح اگر نوبیل پیس پرائز کیٹیگریز دیکھیں تو وہ بھی بہت کم ہیں۔ جب ہر سال ادب پر ایک ادیب کو پرائز ملے گا تو بھلا اس کا نام آپ کو کیسے برسوں تک یاد نہیں رہے گا؟ اس طرح کیمسٹری‘ فزکس یا اکنامکس میں بھی انعام ایک ایک سائنسدان کو ملتا ہے اور پوری دنیا ایک لمحے میں اس نام سے آشنا ہو جاتی ہے اور کئی دہائیوں تک وہ نام جانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی مثال ہی دیکھ لیں کہ ہمارے ایک پاکستانی کو فزکس میں نوبیل پرائز ملا اور ان کا نام آج تک بچہ بچہ جانتا ہے۔ دوسری طرف جن سائنسدانوں کو حکومتِ پاکستان نے ایوارڈز دیے ہیں‘ ان میں سے کتنے نام آپ کو یاد ہیں؟ مان لیا نوبیل پرائز اور پاکستانی ایوارڈ کی اہمیت میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس فرق کی ایک وجہ ان کی تعداد بھی ہے۔ ہمارے ہاں اتنے سارے لوگوں کو ایک ساتھ ایوارڈز دیے جاتے ہیں کہ نہ کسی کو وہ نام یاد رہتے ہیں اور نہ ہی ان کو اہمیت ملتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیوں لوگ یہ ایوارڈ لینے کیلئے سفارشیں چھوڑیں‘ پیسے تک خرچ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ میں نے بھی ایک سٹوری فائل کی تھی کہ 2008ء کی پیپلز پارٹی حکومت میں کراچی کے ایک بزنس مین نے پچاس لاکھ روپے ایک شخصیت کو دے کر پاکستان کا ایک ایوارڈ (غالباً نشانِ امتیاز) حاصل کیا تھا۔
اب یہی دیکھ لیں کہ صدر زرداری نے اپنے بزنس پارٹنر انور مجید کو پاکستان کا ایک بڑا اعزاز (ہلالِ امتیاز) دیا ہے۔ یہ وہی انور مجید ہیں جو زرداری صاحب کے ساتھ نواز شریف کی تیسری حکومت میں جعلی بینک اکائونٹس سکینڈل میں جیل میں قید رہے۔ زرداری اور انور مجید اکٹھے جیل میں تھے‘ آج وہ اسی نواز شریف کے بھائی کی حکومت میں ایک دوسرے کو میڈل پہنا رہے ہیں۔ جب میڈلز اور ایوارڈ اس طرح بانٹے جائیں گے تو پھر ان کی کیا عزت باقی رہ جائے گی؟ لیکن پھر بھی لوگ ان کیلئے جان مارتے ہیں‘ پیسے خرچ کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چند دنوں بعد خود ان کے علاوہ کسی کا ان کا نام بھی یاد نہیں رہتا جن کو ایوارڈز یا نشانات ملے ہوتے ہیں۔ آپ میں سے کتنے لوگوں کے ان شخصیتوں کے نام یاد ہیں جنہیں حکومت پاکستان نے پچھلے سال ایوارڈز دیے تھے؟ بغیر گوگل کیے چند نام بتا سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر یہ سارا اہتمام‘ یہ ساری تگ ودو کس لیے؟ ایوارڈ ہو تو ایسا کہ لوگ برسوں چھوڑیں‘ موت کے بعد بھی آپ کو یاد رکھیں۔