"RKC" (space) message & send to 7575

ہجرت کا رجحان

جب سے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی ہے‘ ان کے حامیوں کو لگتا ہے کہ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا لہٰذا اس ملک کو چھوڑ دیں۔ وہ روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی چیز نکال کر لے آئیں گے جس سے لگے گا کہ جو جتنی جلدی یہاں سے نکل سکتا ہے نکل جائے۔ ہمارے اکثر دوست سوشل میڈیا پر کسی غیرملکی سفارت خانے کے سامنے لگی قطار کی تصویر بنا کر ٹویٹ کرتے ہیں کہ دیکھیں لوگ پاکستان سے بھاگ رہے ہیں کیونکہ یہاں معاشی حالات خراب ہو گئے ہیں اور یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا۔ اس کے پیچھے ایک ہی بات ہوتی ہے کہ خان کے دور میں سب ٹھیک اور اچھا تھا‘ بیرونِ ملک سے پاکستانی نوکریاں ڈھونڈنے یہاں آنے لگے تھے۔
میں تو ہمیشہ اس حق میں رہا کہ عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے دیتے۔ خان کی کارگردگی کا یہ عالم تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں پی ٹی آئی اٹھارہ میں سے سترہ ضمنی الیکشن ہاری۔ عثمان بزدار اور محمود خان جیسے وزیراعلیٰ کے چوائس سے انکی ترجیحات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ پوری سیاسی اپوزیشن جیل میں ڈال کر پوچھتے تھے کہ کوئی بچ تو نہیں گیا۔ میرے خیال میں اس خراب کارکردگی کیساتھ انہیں پانچ سال پورے کرنے دیتے تاکہ قوم کا رومانس پورا ہو جاتا۔ قوم کو زیادہ مسئلہ شاید خان کے جانے سے نہیں بلکہ ان سیاستدانوں سے ہے جنہیں خان کے جانے کے بعد لایا گیاکیونکہ انہیں کچھ سال پہلے یہ کہہ کر ہٹایا گیا تھا کہ وہ نالائق اور کرپٹ ہیں۔ اب وہ نالائق اور کرپٹ اچانک ایماندار اور قابل کیسے ہو گئے؟ لوگ مقتدرہ کی سیاسی مداخلت سے بھی اُکتا چکے کہ ایک دن ایک کو لاتے ہیں تو دوسرے دن دوسرا لے آتے ہیں۔ عوام کی مقتدرہ سے ناراضی کی وجہ خان سے محبت نہیں بلکہ بار بار کے سیاسی تجربات ہیں۔ ان تجربات نے ملک کو معاشی طور پر کمزور کیا جس کی وجہ سے لوگ اب ملک چھوڑ رہے ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور وہی کام جاری ہیں جو پہلے ہو رہے تھے۔ عوام سمجھتے ہیں کہ جو بھی حکمران آتا ہے وہ یاروں دوستوں اور اپنے کاروبار کو فائدے دیتا ہے۔ خوشامدیوں کو مشیر لگا کر ملک اور قوم کا پیسہ اور وسائل ضائع کرتا ہے۔ اب بھی دیکھ لیں کہ ساٹھ ستر افراد کی کابینہ ہے جبکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ چند کلو میٹر کے وفاق کیلئے ساٹھ ستر وزیر مشیر ہیں۔ ان اللے تللوں اور موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے لوگ ان حکمرانوں کا ماضی سے موازنہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ تمام آمرانہ ادوار میں ملک کے معاشی حالات بہتر رہے ‘چاہے وہ ایوب خان کا دور ہو یا جنرل ضیا یا جنرل مشرف کا۔ اس کی وجہ ان حکمرانوں کو ملنے والی امریکی سپورٹ تھی۔ جیسے روس اور چین کے خلاف جاسوسی کیلئے امریکہ کو ایوب خان سے پاکستانی اڈوں کی منظوری درکار تھی جو پشاور اور چٹاگانگ میں دیے گئے تھے۔ جنرل ضیا کی افغان جنگ میں ضرورت پڑی تو مشرف بھی افغانستان پر امریکی حملوں کی وجہ سے فائدے میں رہے۔ ان ادوار میں امریکی پاکستان کو اسلحہ کے ساتھ ڈالرز بھی دیتے رہے‘ خصوصاً جنرل مشرف دور میں ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالرز کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر دیتے رہے۔ جب ملک میں مارشل لاء ہو تو لوگوں اور سرمایہ کاروں کو استحکام محسوس ہوتا ہے۔ ایک ہی بندہ دس سال کیلئے بیٹھا ہوتا ہے اور جو پالیساں بنتی ہیں وہ چلتی رہتی ہیں۔ اس کے برعکس سیاستدان جب بھی پاور میں آتے ہیں تو فوراً پرانی پالیسیاں معطل کرکے ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔
چند روز قبل ہمارے دوست عامر ضیا نے ایک تصویر ٹویٹ کی جس میں لوگوں کی قطاریں کسی سفارت خانے کے باہر لگی ہوئی تھیں۔ مطلب لوگ پاکستان سے مایوس ہو کر باہر جا رہے ہیں۔ اگرچہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ٹویٹر پر انگیج ہونے سے گریز کرتا ہوں کہ یہ سوشل میڈیا فورم میری بہت سی دوستیوں کو نگل گیا۔ لہٰذا جو چند بچے کھچے دوست ہیں وہ بچا لیے جائیں۔ جواب سے زیادہ دوست ضروری ہوتے ہیں۔ عامر ضیا ایک پڑھے لکھے اور ڈیسنٹ آدمی ہیں۔ جب میں دی نیوز میں تھا تب تو وہ کراچی کے ایڈیٹر تھے۔ میں نے اس ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ عامر بھائی آپ کا پوائنٹ اپنی جگہ لیکن کیا جس ملک کی آبادی 25کروڑ ہو وہاں آپ کتنے لوگوں کو مناسب معاشی مواقع فراہم کر سکتے ہیں؟ پھر آبادی ہر سال لاکھوں میں بڑھ رہی ہو اور اگر آبادی روکنے کی بات کی جائے تو یہی لوگ کو مارنے دوڑتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک ریستوران پر کام کرنے والا نوجوان میرا دوست ہے‘ وہ کوہستان سے ہے۔ وہ اٹھارہ بہن بھائی ہیں۔ وہ بتا رہا تھا کہ ان علاقوں میں بارہ سے پندرہ بچے اوسط ہیں۔ ہمارے سرائیکی علاقوں میں بھی آبادی کا یہی حال ہے۔ اب دیہات میں زمینیں بھائیوں بہنوں میں تقسیم در تقسیم ہو کر بہت کم رہ گئی ہیں۔ ویسے بھی انسان صدیوں سے بہتر مواقع کی تلاش میں ایک علاقے سے دوسرے کی طرف ہجرت کرتا آیا ہے۔ اور تو اور پرندے بھی ہجرت کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ساڑھے تین کروڑ سے زائد بھارتی بیرون ملک ہیں اور اب بھی وہاں امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ جانے کیلئے لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ انڈیا خود کو دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کہتا ہے‘ پھر ساڑھے تین کروڑ بھارتی ملک سے باہر کیوں ہیں؟ ہم سب نے زندگی میں ہجرت کی ہے۔ میں لیہ سے ملتان‘ ملتان سے اسلام آباد‘ اسلام آباد سے لندن گیا اور پھر واپس پاکستان آ گیا۔ انسان ہجرت نہ کرتا تو یہاں تک نہ پہنچتا جہاں پہنچا ہوا ہے۔ کس دور میں ہجرت نہیں ہوئی یا لوگ اپنا ملک وطن چھوڑ کر دوسرے شہروں‘ ملکوں کو نہیں گئے۔ اگر یہ اصول اپنا لیا جاتا تو پھر آج امریکہ اور آسٹریلیا کا وجود نہ ہوتا۔ امریکہ تو مہاجروں کا ملک ہے۔ انگریز یورپ سے نکلے اور پوری دنیا پر حکومت کی۔ تاجر بن کر آئے اور ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ وہ بھی ہجرت کی شکل تھی۔ گورے بھی ہندوستان میں رچ بس گئے۔ خوشحال قوموں‘ ڈویلپ انسانی آبادیوں پر پہاڑوں یا صحرا سے اترے قبائل نے جنگیں‘ حملے اور قبضے کیے اور وہیں سیٹل ہو گئے۔ وہ بھی ہجرت کی ایک شکل تھی کہ ان کے پاس معاشی وسائل کم تھے۔ ہمیشہ خوشحال قومیں اور امیر تہذیب بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہی اور وجہ وہی معاشی تھی کہ غریب قبائل اکٹھے ہو کر امیر ملکوں کو لوٹتے رہے یا وہاں قابض ہو گئے اور پھر ان کی تیسری نسل Son of soilکہلائی۔
دوسری طرف ان ہجرت کرنے والوں نے دنیا کی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اپنے ساتھ یہ سخت محنت‘ ہنر‘ جوش اور Survival instincts & skills لے کر جاتے اور ان معاشروں کو ترقی دیتے ہیں۔ وہاں مقامی ذہین لوگوں اور ٹیکنالوجی سے بھی سیکھ کر خود کو اَپ گریڈ کرتے ہیں۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو انسان ایک دوسروں کے تجربات اور ذہانت سے نہ سیکھ پاتا اور نئی نئی ایجادات نہ ہوتیں اور نہ ہم ترقی کرتے۔ کتنی ہی بڑی بڑی ایجادات امیگرنٹس یا ان کے بچوں نے کی ہیں۔ ان ہجرت کرنیوالوں نے Cross marriages سے ذہین نسلیں پیدا کیں۔ ایک جگہ رہ رہ کر انسان ایک ہی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ مذہبی طور پر بھی دیکھیں تو پیغمبر تک ہجرت کرتے رہے ہیں‘ ہمارے رسول پاکﷺ ہوں یا حضرت موسی علیہ السلام‘ جو اپنی قوم کو فرعون کے چنگل سے نکال کر Promised land کیلئے مصر چھوڑ گئے تھے‘ اور صحرا کا رخ کیا جو انہیں دریائے نیل کے خوشحال مصر سے بہتر چوائس لگتا تھا۔ ہر انسان کے اندر اپنا اپنا ایک پرامسڈ لینڈ ہے جو اسے یہاں نہیں ڈھونڈ پاتے تو وہ کہیں اور جا کر ڈھونڈتے ہیں۔ واسکوڈے گاما یا کولمبس بھی باہر نکلے‘ ہجرت کی تو نئی دنیا تلاش کر لی جہاں آج سب جانے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں۔ ان سب کو اپنی اپنی دنیا تلاش کرنے دیں۔ ہجرت ہمیشہ خوشحالی اور ترقی لاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں