ابھی انڈیا سے ایک خبر آئی ہے کہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے ایک افسر راجندر کمار پٹیل کو 1500کروڑ لینڈ سکینڈل میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ عام لوگوں کیلئے اس میں کوئی بڑی خبر نہیں کہ بھارت اور پاکستان میں لوگ سول سروس میں عوامی خدمت کا جذبہ لے کر نہیں بلکہ اپنی غربت دور کرنے جاتے ہیں یا بقول خواجہ آصف‘ وہ یہاں سے پیسہ کما کر پرتگال میں جائیدادیں خریدنے جاتے ہیں۔ اصل خبر یہ ہے کہ اس نوجوان افسر کی ایک پرانی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ 2015ء کی وڈیو ہے جب اس نوجوان نے ٹاپ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے ٹاپ کرنے کی وجہ اس کا Ethics کا پرچہ ہے‘ جس میں اسے سب سے زیادہ نمبرز ملے۔ اخلاقیات میں ٹاپ کرنے والا افسر اربوں روپے کی کرپشن میں پکڑا گیا ہے۔ صرف دس برس میں سب اخلاقیات‘ سب بھاشن بھاپ بن کر اُڑ گئے۔ یہ خبر پڑھ کر بھارتی اداکار انیل کپور کا وہ کلپ یاد آ گیا جس میں ان سے پوچھا گیا کہ فلاں اداکار ارب پتی ہے‘ پھر بھی وہ روزانہ چھ چھ فلموں میں کام کر رہا ہے‘ آخر اسے کتنا پیسہ چاہیے؟ اس پر انیل کپور نے کہا کہ قصور اُس کا نہیں کہ اسے مزید کتنا پیسہ اور زندگی میں کتنا سکون چاہیے۔ انیل کپور کے بقول‘ ہر بھارتی کے ذہن میں غریبی گھسی ہوئی ہے۔ ارب پتی بھی اس خوف کا شکار ہے کہ وہ کہیں دوبارہ غریب نہ ہو جائے‘ لہٰذا وہ دن رات پیسہ کمانے میں لگا ہوا ہے۔ یہ سوچ بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں ہر کسی کی ہے۔ اپنے اردگرد لوگوں کو اندھا دھند پیسہ کماتے دیکھتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ ستر سال کی عمر میں جس بندے کو صحت دال اور ساگ کے علاوہ کچھ کھانے کی اجازت نہیں دیتی‘ وہ بھی مزید اربوں روپے کمانے میں لگا ہوا ہے۔ مان لیا کہ حلال اور قانونی طریقوں سے پیسہ کمانا ہر کسی کا حق ہے اور ایسے ہی معاشی ترقی ہوتی ہے‘ نوکریاں پیدا ہوتی ہیں‘ روزگار ملتا ہے‘ معیشت آگے بڑھتی اور معاشرے میں خوشحالی آتی ہے۔ انسانی معاشرے ایسے ہی ترقی کرتے ہیں کہ چند ذہین لوگ اپنی ذہانت اور کاروباری مہارت سے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدل دیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ پبلک عہدے پر فائز ہیں اور عوامی خدمت کے بجائے محض بینک بیلنس بڑھا رہے یا بیرونِ ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں تو پھر آپ سے پوچھنا بنتا ہے کہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے اور اتنا پیسہ کیا کرنا ہے۔ سمجھدار افسران اور عوامی نمائندے جائیدادیں یار دوستوں‘ رشتہ داروں یا فرنٹ مین کے نام پر خریدتے ہیں۔ نیب کو کبھی یہ اختیار تھا کہ وہ بے نامی اکائونٹس یا جائیدادوں سے متعلق عوامی عہدوں؍ سرکاری دفتروں میں بیٹھے افسران سے پوچھ گچھ کر سکتا ہے لیکن 2022ء میں پی ڈی ایم حکومت نے نیب کے ایسے پَر کاٹے کہ وہ اڑنا ہی بھول گیا اور اب محض کرپشن واک کرا کے وہ دلپشوری کر لیتے ہیں۔
جس بھارتی کیس کی میں بات کر رہا ہوں‘ تفتیشی افسر کے مطابق وہ پندرہ سو کروڑ روپے کا سکینڈل ہے‘ جو زمین سے متعلق ہے۔ اس افسر کا نام اس سکینڈل میں اس وقت آیا جب اس کے ایک ماتحت کے گھر سے 65 لاکھ کیش انڈین کرنسی برآمد ہوئی‘ جو اُس نے مختلف لوگوں سے وصول کی تھی۔ جہاں ایک کلرک 65 لاکھ (تقریباً دو کروڑ پاکستانی روپے) اکٹھے کر لے‘ وہاں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کلیکٹر راجندر کمار نے کتنا مال کمایا ہو گا۔ مسئلہ وہی ہے کہ سول سروس میں ہر نوجوان اس لیے گھسنا چاہتا ہے کہ اسے بے پناہ اختیارات‘ پیسہ‘ پروٹوکول اور ٹھاٹ بھاٹ چاہیے۔ متحدہ ہندوستان کا گورا افسر لوٹ آئے تو بھارت اور پاکستان کے افسران کی کرپشن دیکھ اور سن کر شاید صدمے سے مر جائے۔ گوروں کو جب ہندوستان پر حکومت کرنے کیلئے سول انتظامیہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں سے پڑھے لکھے لوگ اکٹھے کیے‘ جنہیں یہ تلقین کی گئی کہ انہیں ہندوستان پر انصاف اور ایمانداری سے حکومت کرنی ہے۔ انہیں ٹریننگ دی گئی اور بھاری تنخواہیں اور پیکیجز دے کر سمندر کا سفر کر کے برصغیر لایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف 400گورے افسران نے 34کروڑ ہندوستانیوں پر حکومت کی اور آج تک پرانے لوگ‘ جنہوں نے انگریز دور دیکھ رکھا ہے‘ انکی انصاف پسندی‘ ایمانداری اور فرض شناسی کی مثالیں دیتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اٹھارہویں صدی میں جب ہندوستان پر قبضہ ہو رہا تھا اُس وقت رابرٹ کلائیو جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران نے مقامی نوابوں کو خوب لوٹا اور قتلِ عام کیا۔ اکیلا رابرٹ کلائیو اُس وقت کے دو لاکھ پائونڈ سے زائد لندن لے گیا اور یورپ کا امیر ترین شخص کہلاتا تھا‘ لیکن جب برٹش کرائون نے کمپنی سے ہندوستان کی حکومت لے کر وائسرے بھیجے اور برطانوی افسران آئے تو پھر ہندوستان میں گورننس کے حالات بدل گئے۔ دھیرے دھیرے انگریزوں نے دیسی ہندوستانیوں کو بھی انڈین سول سروس (ICS) میں شامل ہونے کا موقع دیا تاکہ وہ بھی گورننس میں شامل ہوں۔ اُس دور میں ICS کا امتحان پاس کرکے انگریز کی بیورو کریسی میں جانا کسی بھی ہندو یا مسلمان کیلئے باعثِ فخر سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی ان لوگوں کے نام پڑھیں تو عزت سے سر جھک جائے۔ اُس دور میں اور تقسیم ہند کے بعد بھی بڑے عرصے تک بیورو کریسی مالی طور پر کرپٹ نہیں تھی۔ اگرچہ بھٹو دور میں تین سو افسران کو کرپشن الزامات پر برطرف کیا گیا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کی بڑی وجہ بیورو کریسی میں براہ راست تقرریاں تھیں‘ جو شاید اردو بیورو کریسی کی طاقت توڑنے کیلئے کی گئی تھیں۔ یوں وہ میرٹ اور افسران کا کردار غائب ہوتا چلا گیا۔ وہ افسران ایک ایک کر کے گم ہوتے گئے جن کیلئے عوامی خدمت فخریہ بات تھی۔ دھیرے دھیرے بیرونِ ملک جائیدادیں‘ بیرونِ ملک فیملی‘ بیرون ملک نیشنیلٹی اہم ہوتی چلی گئی۔ یہ افسران جس اتھارٹی کے چیئرمین یا ایم ڈی لگے‘ وہاں ٹھیکیدار اور بلڈرز ان کے فرنٹ مین بن گئے۔ کینیڈا سے نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیا سے انگلینڈ اور یورپ سے امریکہ تک شہریت اور جائیدادوں کی خریداری نے زور پکڑا۔ دہری شہریت کا کلچر عام ہوا۔ بابوز سمجھدار ہوتے چلے گئے۔ 1985ء کے الیکشن کے بعد گلی محلے کی سوچ رکھنے والے ایم این اے اور ایم پی اے بنے تو ان نئے سیاستدانوں کو بھی کرپشن کا راستہ دکھایا گیا۔ ترقیاتی فنڈز کے نام پر کمیشن کھانے کی جو لت لگی وہ شاہد خاقان عباسی کے بقول‘ اب بڑھتے بڑھتے 30 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔ اب ایم این ایز؍ ایم پی ایز کو مفتاح اسماعیل کے مطابق‘ سال میں 575 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ ملتا ہے اور 30 فیصد کمیشن ان کا ہوتا ہے۔ یقینا سب ممبران کمیشن نہیں لیتے لیکن اکثریت اس رنگ میں رنگ چکی ہے۔ بابوز نے اَنی مچائی ہوئی ہے اور یوں رہائشی سکیموں اور زمین کا دھندہ شروع ہوا کیونکہ اس میں بڑا پیسہ ہے۔ ایک این او سی کے بدلے آپ اتنا کما لیتے ہیں کہ جتنا رابرٹ کلائیو ہزاروں ہندوستانیوں کو مارنے کے بعد کما سکا تھا۔ یہاں ایک ایک بابو ایک دن میں کتنا کما لیتا ہے‘ اس کیلئے بھارتی کلیکٹر کی کہانی پڑھ لیں‘ جس پر ایک لینڈ سکینڈل میں پندرہ سو کروڑ روپے کاالزام ہے۔
درخت کٹتے گئے‘ زرعی زمینوں میں سریا سیمنٹ ڈلتا گیا کیونکہ زمین بلڈرز کو دینی تھی اور بدلے میں بابوز کو ارب پتی بننا تھا۔ آج کل پھر اسلام آباد کے درختوں اور جنگلات کی شامت آئی ہوئی ہے۔ یہاں بابوز وہی کچھ کر رہے ہیں جو بھارت کا نوجوان افسر زمین کے کیسز میں کر رہا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے ایک سیکرٹری کے گھر سے 80 کروڑ روپے کیش برآمد ہوا تھا۔ ایک سابق وفاقی سیکرٹری شاہد رفیع نے نیب کو پلی بارگین میں چار کروڑ ادا کیے تھے جو ترکی کی رینٹل پاور کمپنی سے بطور رشوت لیے تھے۔ بھارت ہو یا پاکستان‘ وہی انیل کپور والی بات کہ ہمارے افسران کے اندر صدیوں کی بھوک اور غریبی ہے‘ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔