"RKC" (space) message & send to 7575

سیاسی ایلیٹ کی ماحولیاتی کرپشن

مجھے نہیں پتاآپ میں سے کتنوں نے حالیہ ورلڈ اکنامک فورم میں آئی ایم ایف کی خاتون عہدیدار گیتا گوپی ناتھ کا انٹرویو سنا‘ جن سے پوچھا گیا وہ بھارت کے دنیا کی تیسری بڑی معاشی طاقت بننے کے حوالے سے کیا کہتی ہیں؟گیتا کا جواب تھا: بھارت بہت جلد معاشی طاقت تو بن جائے گا لیکن اسے اتنا خطرہ صدر ٹرمپ کے لگائے گئے پچاس فیصد ٹیرف سے نہیں جتنا آلودگی‘ گندگی اور ماحولیاتی بربادی سے ہے۔ میں شرطیہ کہتا ہوں کہ جیسے بھارتیوں کو سمجھ نہیں آئی کہ اس ماہر خاتون کا کیا مطلب ہے اور اسے وہاں گالیاں دی جارہی ہیں‘ اس طرح پاکستان میں بھی اکثریت کو اس کی بات سمجھ نہیں آئے گی۔ سب مذاق کریں گے اور جگتیں ماریں گے کہ ماحولیات اور معیشت کا ایک دوسرے سے بھلا کیا تعلق۔ مزے کی بات ہے کہ جس وقت گیتا گوپی ناتھ یہ انٹرویو دے رہی تھی اس وقت اسلام آباد میں سینیٹر شیری رحمن کی قیادت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلیوں کا اجلاس ہو رہا تھا‘ جہاں سب سے بڑا ایجنڈا اسلام آباد میں شکر پڑیاں‘ اوپن یونیورسٹی گرین بیلٹ‘ ایف نائن پارک‘ بارہ کہو اور سرینا چوک میں تیس سے چالیس ہزار درختوں کا قتل عام اور آئی ایٹ سیکٹر کے تین چار کلومیٹر جنگل کا صفایا کر کے وہاں یادگار بنانے کا منصوبہ تھا۔ اس قتلِ عام پر اسلام آباد کے لاکھوں شہری شدید حیران‘ پریشان بلکہ صدمے کا شکار ہیں۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ گریڈ بیس کا ایک افسر اُٹھ کر فیصلہ کرے گا اور پورا شہر اجاڑ کر رکھ دے گا۔
اس اجلاس سے پہلے سینیٹر شیری رحمن نے ٹویٹر (ایکس) پر جو پوسٹ کی اس سے محسوس ہوتا تھا کہ اب کی دفعہ متعلقہ افسران کی خیر نہیں اور وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گی۔ مجھے بھی میسج بھیجا گیا کہ آپ نے درختوں کی بربادی پر شیری رحمن صاحبہ کی خاموشی پر جو سوالات اٹھائے ہیں‘ اجلاس میں دیکھ لیجیے گا کہ وہ وہاں ان افسران کا کیا حال کرتی ہیں۔ اس لیے بھی مجھے شیری رحمن سے امید تھی کہ پچھلے اجلاس میں انہوں نے درختوں اور ماحول کی بربادی کے حوالے سے افسران کی خاصی کلاس لی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگلی بار سی ڈی اے حکام کی سخت جواب طلبی ہو گی۔ افسران خود بھی شہریوں‘ مین سٹریم اور سوشل میڈیا کے شور مچانے پر سخت دبائو میں تھے‘ لہٰذا اس اجلاس سے پہلے ہی لابنگ شروع ہو گئی۔ غالباً کمیٹی کے اراکین سینیٹرز پر فوکس کیا گیا تاکہ اجلاس میں ایسے سوالات نہ ہو سکیں جن کے جوابات افسران کے پاس نہ ہوں اور میڈیا کی موجودگی میں ان کی سبکی نہ ہو۔ میرا خیال تھا کہ شیری رحمن جنہیں ایک پڑھی لکھی‘ باشعور اور دبنگ پارلیمنٹیرین کے طور پر میں 2002ء سے جانتا ہوں‘ کم از کم وہ کسی افسر کے دبائو یا لابنگ کا شکار نہیں ہوں گی۔ جو انگریزی میگزین دی ہیرلڈ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر رہی ہوں اور بینظیر بھٹو کے ساتھ کام کر چکی ہوں‘ وہ یقینا مختلف ذہن رکھتی ہوں گی اور عام افسران انہیں اپروچ کرنے کی جرأت بھی نہیں کریں گے۔ تاہم میری برسوں کی خوش فہمی اس وقت دھڑام سے نیچے آن گری جب موسمیاتی کمیٹی کے اجلاس سے ایک دن قبل سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کا اجلاس ہوا‘ جہاں شیری رحمن اور دیگر سینیٹرز کے علاوہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور چیئرمین سی ڈی اے بھی موجود تھے۔ میں اس وقت ششدر رہ گیا جب شیری رحمن اجلاس چھوڑ کر جانے لگیں تو اچانک طلال چودھری اور چیئرمین سی ڈی اے نے انہیں روکا اور پھر ان سے کچھ بات چیت کی‘ جس کے بعد شیری رحمن نے سی ڈی اے چیئرمین کو تھپکی دی اور کہا کہ پریشان نہ ہوں‘ میں آپ کو اجلاس میں تنگ نہیں کروں گی۔ یہ الفاظ میں نے اور دیگر صحافیوں نے اپنے کانوں سے سنے اور حیرتناک منظر دیکھا۔ مجھے یہ سب دیکھ کر سخت صدمہ پہنچا۔ کیا یہ ہم سب کا ذاتی مسئلہ ہے یا ہم افسران سے کوئی ذاتی عناد رکھتے ہیں کہ اگر وہ تلخی دور ہو جائے تو پھر اجازت ہے کہ پورا شہر اجاڑ دو ہمیں پروا نہیں؟
شیری رحمن نے جس دروازے سے گزرنا تھا ہم صحافی اس کے قریب ہی کھڑے تھے۔ میں نے انہیں سلام کیا اور کہا کہ میڈم یہ آپ کا یا ہمارا کوئی ذاتی ایشو نہیں‘ امید ہے کہ آپ چیئرمین کو درختوں کے قتلِ عام پر ضرور ''تنگ‘‘ کریں گی۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی باتیں ہم سن چکے ہیں۔ ان کا موڈ اچانک بدلا اور کہا کہ آپ مجھے ایسے نہیں کہہ سکتے۔ میں نے کہا: میڈم میں کہہ سکتا ہوں‘ آپ ہماری نمائندہ ہیں‘ آپ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے کہ اپنا فرض انجام دیں نہ کہ افسران کو یقین دہانی کرائیں کہ آپ کو ماحولیاتی قتل پر کچھ نہیں کہا جائے گا۔ انہیں میری یہ بات پسند نہیں آئی اور مجھے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے چلی گئیں۔ میں کافی دیر تک صدمے کا شکار رہا کہ اس ملک کی پڑھی لکھی ایلیٹ کلاس نے ہمارے ملک کا کیا حشر کر دیا ہے۔ پہلی مایوسی کی وجہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور پھر وزیر برائے ماحولیات ڈاکٹر مصدق ملک تھے اور اب شیری رحمن تھیں۔ کم از کم مجھے شیری رحمن سے اس اقدام کی توقع نہ تھی کہ وہ تو خود وزیر ماحولیات رہی ہیں اور دنیا بھر کے دورے کر چکی ہیں۔ وہ ماحولیات پر لیکچر بھی دیتی ہیں۔ بہت اہم اور سنجیدہ ایشوز پر ایوان کے اندر اور باہر بڑی بہادری اور حوصلے کے ساتھ بات کرتی ہیں۔ ان کی شہرت اب تک ایک دلیر اور دبنگ پارلیمنٹیرین کی تھی لیکن میرے لیے یہ پہلو افسوسناک تھا کہ سرسبز شہر اور اس کے جنگل اور پارک اجاڑ دیے جائیں ہمیں پروا نہیں‘ اور ذمہ دار افسران کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔
شیری رحمن کی یقین دہانی کے بعد مجھے امید نہ تھی کہ اجلاس میں افسران سے کوئی سخت باز پرس ہوگی یا حکومت کو کہا جائے گا کہ وہ ان افسران کے خلاف اس اقدام پر تادیبی کارروائی کرے۔ توقعات کے عین مطابق اجلاس میں وہی ہوا جس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ حیران کن طور پر بارہ اراکین میں سے صرف تین حاضر تھے اور بہت جلد ان میں سے بھی دو سینیٹرز یہ کہہ کر نکل گئے کہ انہیں کسی اور اجلاس میں شرکت کرنی ہے۔ سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ جو ماحولیاتی کمیٹی کے ممبر ہیں‘ وہ اب ان اجلاسوں میں شریک ہی نہیں ہوتے۔ حالانکہ نگران وزیراعظم بننے سے پہلے وہ ہر کمیٹی اجلاس میں شریک ہوتے تھے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے وہ اپنی علمیت‘ جارحانہ سوالات اور ذہانت سے ہم سب کو متاثر کرتے تھے لیکن اب دو سال سے وہ کسی کمیٹی اجلاس میں نظر نہیں آتے۔ شاید انہیں بھی کسی سیانے نے سمجھا دیا ہے کہ جو ملک کا وزیراعظم رہا ہو اس کا ان کمیٹیوں جیسے عام اجلاسوں میں شرکت کرنا سٹیٹس کے خلاف ہے۔ یہ وہی اپروچ ہے جو نواز شریف‘ عمران خان نے بھی اپنائے رکھی اور دونوں گورننس کے محاذ پر ناکام ہوئے۔ جو تجربہ؍ نالج آپ کو یہ کمیٹیاں دیتی ہیں‘ وہ وزیراعظم بن کر کام آتا ہے۔ یوں وزیراعظم کا عہدہ ایک سمجھدار سینیٹر چھین کر لے گیا۔ اگر ان اجلاسوں میں شریک ہونا ان کے سٹیٹس کے خلاف ہے تو وہ ممبر بن کر یہ سیٹ کیوں ضائع کر رہے ہیں؟ مختصراً یہ کہ سینیٹرز اس اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے اور اکیلے سینیٹر سرمد علی آخر تک موجود رہے‘ لیکن مجال ہے کہ کراچی سے پیپلز پارٹی کے اس سینیٹر نے پورے اجلاس میں ایک لفظ بھی بولا ہو یا کوئی سوال کیا ہو۔ اب اپنے دوست سرمد علی سے کیا شکایت‘ جب شیری رحمن صاحبہ‘ جو 24 سال سے پارلیمنٹ کا حصہ ہیں‘ وہ ہی کسی افسر کی مبینہ لابنگ کا بوجھ نہ اٹھا سکیں اور اپنا وہ قول خوب نبھایا‘ جو داخلہ کمیٹی میں یقین دہانی کرائی تھی کہ آپ کو تنگ نہیں کروں گی۔
البتہ ایک وعدہ شیری رحمن نے نیلوفر قاضی‘ کنور دلشاد اور مجھ جیسے ماحول دوستوں سے بھی کیا تھا کہ وہ درختوں کے قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گی۔ شاید انہوں نے ترازو کے ایک پلڑے میں سی ڈی اے چیئرمین اور دوسرے پلڑے میں اسلام آباد کے تیس چالیس ہزار درخت‘ جنگلات‘ گرین ایریا اور ماحولیاتی تباہی کو رکھ کر تولا ہوگا اور شاید ہم سب ہلکے نکلے ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں