اردو گرامر کی کتابوں میں مرقوم ہے کہ دو یا دو سے زیادہ با معنی الفاظ کا ایسا ملاپ جس سے کہنے والے کا مقصد پورا ہو جائے، مرکب یا جملہ کہلاتا ہے۔ جیسے حیا کرو، انصاف کرو، تھوڑا کھائو وغیرہ۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے مگر ان مرکبات سے کہنے والے کا مقصد بخوبی پورا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ اور لاحقہ بھی مل کر مرکب بناتے ہیں۔ جیسے طالع آزما، رشوت خور، ریلو کٹا وغیرہ۔ ان میں طالع، رشوت اور ریلو سابقے جبکہ آزما، خور اور کٹا لاحقے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ مرکبات نیم کے سابقے کے پائے جاتے ہیں۔ ان کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔
نیم خوابیدہ: شاید آپ سن کر حیران ہوں کہ دنیا میں کہیں کہیں نیم خوابیدہ قومیں بھی پائی جاتی ہیں۔ نیم خوابیدہ قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیم خواندہ بھی ہو۔ خواندہ قوم نیم خوابیدگی سے نکل کر چوکس ہو جاتی ہے اور نیم رہنمائوں کا طلسم توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ پس گلشن کا کاروبار رواں رکھنے کی خاطر ضروری ہے کہ ایسی قوم کو نیم خواندہ ہی رہنے دیاجائے تاکہ وہ نیم خوابیدگی کے عالم میں خواب دیکھتی رہے۔
نیم انصاف: اسے پنجابی میں ''دادا لوے تے پوتا ہنڈاوے‘‘ کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اگر دنیا کے کسی عدالتی نظام میں انصاف سائل کی تیسری نسل کو جا کر ملے تو وہ نیم انصاف کہلاتا ہے۔ اگر کوئی عدالت طاقتور کو بری اور کمزور کو سزا سنائے تو یہ بھی نیم انصاف ہی کہلائے گا۔ نیم انصاف کی تو صدیوں یاد رکھے جانے کے قابل اور بھی بہت سی مثالیں ہیں مگر انہیں بیان کرنا مناسب نہیں۔ آپ نے اردو زبان کی وسعت ملاحظہ فرمائی کہ بغیر مثال دیے کہنے والے عاجز کا مقصد پورا ہو گیا۔
نیم حکیم: چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور شمالی و قبائلی علاقہ جات، کوئی مائی کا لعل ایسا نہیں جو جگر، معدہ، مثانہ کی گرمی اور مردانہ کمزوری میں مبتلا نہ ہو۔ اگر آپ کو اپنے بارے میں کوئی زعم ہے تو کسی نزدیکی نیم حکیم کو نبض دکھا کر اپنی خوش فہمی دور کر سکتے ہیں۔ نیم حکیم محض نبض پر ہاتھ رکھ کر بندے کے اندر سے ایسے ایسے پوشیدہ امراض کو بھی کھوج نکالتے ہیں، جن سے جدید میڈیکل سائنس کے فرشتے بھی لاعلم ہیں۔ یہ عینک توڑ سرمہ بھی بیچتے ہیں اور گردن توڑ کشتے بھی۔ اسی لیے نیم حکیم کو خطرہ جاں کہا گیا ہے۔
نیم شاعر: یہ اُستاد امام دین گجراتی کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی پہچان کے لیے بارِ دگر محترم انور ؔمسعود کا شہرہ آفاق فرمان کوٹ کرنا پڑ رہا ہے کہ ''اس دفعہ خربوزے اور شاعر زیادہ ہوئے ہیں‘‘ اس قبیلے میں وہ حسین اور نیم حسین خواتین شاعرات بھی شامل ہیں جن کے خوبصورت اور نیم خوبصورت کلام کے پیچھے کسی خیال افروز استاد کا قلم کار فرما ہوتا ہے۔ کسی مشاعرے میں اچھے شعرا کو سننے کے لیے ہم رات گئے تک جن لوگوں کو برداشت کرتے ہیں، ان کی اکثریت نیم شعرا پر مشتمل ہوتی ہے۔
نیم پارسا: جو خواتین و حضرات بات بات پر اپنی سچائی کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، جو لوگ اپنے بچوں کو ہمیشہ لقمہ حلال کھلانے کی تکرار کرتے نہیں تھکتے، ہمارے ایسا جو معمولی قلم کار ہر محفل میں اپنا قلم کبھی نہ بیچنے کی ڈینگیں مارتا ہے یا جو محترمہ بات بات پر تنک کر گرجتی ہے کہ ایسی ویسی نہیں ہوں میں... وہ بالترتیب اول درجے کے جھوٹے، حرام کمانے والے، قلم کی حرمت کا سودا کرنے والے اور مشکوک کردار کے حامل ہوتے ہیں۔اسی طرح جو ہستی آدھے گھنٹے کی ملاقات میں دس مرتبہ اپنی پارسائی کا ڈھنڈورا پیٹے، وہ نیم پارسا اور ریا کار کہلاتا ہے۔ کسی سچے، با کردار اور پارسا کو کبھی اپنی یہ خوبیاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ لوگ اس کے قول و فعل اور عادات و اطوار سے خود ہی پہچان لیتے ہیں۔
نیم رضا مندی: خاموشی کو نیم رضا مندی کہا گیا ہے۔ یہ بھی کچھ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ جب لوگ اپنے حقوق غصب کرنے یا کسی ظلم پر احتجاج نہیں کرتے تو غاصب اور ظالم ان کی خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھ کر اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ نیم رضا مندی کی ایک مثال کسی آمر کا ریفرنڈم ہے۔ جب خاموش اکثریت پولنگ سٹیشنوں کا رخ نہیں کرتی تو آمر کے حواری ان کی خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھ کر خود ہی ان کی طرف سے بیلٹ باکس بھر دیتے ہیں۔
نیم بجلی: یہ بجلی کی وہ قسم ہے جو ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ اس پر صفحے کا زیادہ حصے سیاہ کرنا ضروری نہیں کیونکہ نیم بجلی نے پہلے ہی کافی اندھیر مچا رکھا ہے۔ ہمارے وزرائے کرام نے نیم بجلی کا نام نیم لوڈ شیڈنگ رکھا ہوا ہے۔
نیم دانشور: اس ٹیم میں نیم محقق، نیم تاریخ دان، نیم تجزیہ نگار اور ہمارے ایسے نیم کالم نگار بھی شامل ہیں۔ اس ٹیم کی مشترکہ خوبی یہ ہے کہ ہر ممبر خود کو عقل کل سمجھتا ہے۔ یہ تاریخ اور حالاتِ حاضرہ کی گردن کو اپنی خواہشات کے مطابق مروڑنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ یہ ٹیم اپنے خطبات اور رشحاتِ قلم کے ذریعے قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اسی طرح کے صدری نسخے پیش کرتی ہے، جیسے نیم حکیم عینک توڑ سرمہ بیچتے ہیں، چاہے سرمہ ہٰذا کے استعمال کے بعد آنکھیں ہی نہ رہیں۔ ان میں سے اکثر کے تخیل کی پرواز اتنی بلند ہوتی ہے کہ فحاشی اور جمہوریت کے خاتمے تک جاتی ہے۔ یہ ہوتے تو نیم ہیں مگر انہیں نامور کہنا پڑتا ہے۔
نیم ملا: یہ نیم خواندہ بھی ہوتا ہے۔ یہ رہتے تو ہمارے درمیان ہیں مگر ذہنی طور پر دور بہت دور کسی پرانے صدی میں بستے ہیں۔ یہ انٹرنیٹ کے اس عہد میں بھی ماضی کی طرح ہر نئی سائنسی ایجاد کو اپنے نیزے کی اَنی پر رکھتے ہیں۔ البتہ ان ایجادات سے بھرپور استفادہ کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔ دوسروں کے ایمان اور افعال کا عمیق مشاہدہ کرنا، کافر گری اور فتویٰ سازی کا بازار گرم رکھنا اور جنت و جہنم کے ٹکٹ تقسیم کرنا ان کے مرغوب مشاغل ہیں۔ شاید اسی لیے نیم ملا کو خطرہ ایمان کہا گیا ہے۔
نیم قوم: نیم قوم نیم جاں بھی ہوتی ہے۔ نیم یقینی بھی اس کی پہچان ہے۔ ''ہم زندہ قوم ہیں‘‘ یا ''لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا‘‘... جو قوم اس طرح کی قوالیاں کثرت سے کرے، وہ نیم قوم ہوتی ہے۔ مکمل اور زندہ قومیں علم و عمل اور تہذیب سے اپنا آپ منواتی ہیں، قوالیوں سے نہیں۔
نیم چڑھا: اگرچہ یہ صفت کریلے کی بیان کی گئی ہے مگر کئی انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ نیم چڑھے کو اَن گھڑ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دلیل کی بجائے گالی پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ کسی محفل میں کوئی بھی معقول اور عقل کی بات کرکے دیکھ لیں، اگر وہاں کوئی نیم چڑھا موجود ہوا تو فوراً آستینیں چڑھا لے گا۔
نیم دلی: ہمارے سرکاری دفاتر میں افسران اور اہلکار جس محنت اور شوق سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، اسے نیم دلی کہا جاتا ہے۔
نیم درویش: جو درویش اپنے پر آسائش محل سے لگژری گاڑی میں بیٹھے اور محافظوں کے جلو میں کسی اجتماع میں جا کر نیم جاں لوگوں کو سادہ طرز زندگی اختیار کرنے کی تلقین کرے، وہ نیم درویش ہوتا ہے۔ کئی لوگ اسے ٹھگ بھی کہتے ہیں۔
نیم شب: نصف شب کو نیم شب کہا جاتا ہے۔ اپنی اپنی شوق کی بات ہے، کوئی دعائے نیم شب سے دل کی مراد پاتا ہے اور کوئی شغلِ نیم شبی سے۔ کہیں کوئی نیم بسمل آہِ نیم شب بلند کرتا ہے تو کہیں کوئی نیم چڑھا دادِ عیش دیتا ہے۔