ایک ملتے جلتے عنوان کی مقبول تحریر سے متاثّر ہو کر آج ''تین بابے تین کہانیاں‘‘ بیان کررہا ہوں۔ عمر رسیدہ ہونے پر انسان ناقص ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور خاصیت بھی اکثر پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ آسانی سے حیران نہیں ہوتا۔ چونکہ بڑی عمر کو پہنچتے پہنچتے وہ اتنا کچھ دیکھ چکا ہوتا ہے کہ حیران کن سے حیران کن معاملہ بھی اُسے حیران نہیں کرتا۔ لہٰذا واضح کر دوں کہ ان واقعات کو سنتے ہوئے مجھے بھی حیرانی نہیں ہوئی؛ البتہ ذہن میں سوالات ضرور اُٹھے جوعرض کرنا مقصود ہے۔
پہلا واقعہ ایک ایسے بزرگ کا ہے جسے روزمرّہ نوعیت کا ایک کام بجلی سپلائی کی کمپنی کے ساتھ درپیش ہوا۔ اتفاق سے تقریباً تیس سال پہلے آپ واپڈا کے خزانے کے محافظ تعینات رہے تھے چنانچہ اطلاع ملنے پر کمپنی سے ایک ٹیم مذاکرات کے لیے ان کے ہاں پہنچ گئی۔ اُن کی ضرورت سمجھ لینے کے بعد انہوں نے موٹا موٹا خرچ ایک لاکھ روپیہ بتایا۔ میرے عزیز نے سوچنے کی مہلت مانگی جو بلا تامّل اُنہیں دے دی گئی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ پیرانہ سالی یا مالی کمزوری کی بنیاد پر رعایت مانگتے تو ان کا کام ایک لاکھ روپے سے کہیں کم میں ہو جاتا لیکن انہوں نے اپنی روش کے مطابق سیدھا راستہ اختیار کیا اور تحریری درخواست داغ دی۔ چند دوستوں کے کہنے سننے پرکمپنی نے تخمینہ بنایا اور ڈیمانڈ نوٹ تیار ہوگیا۔ ایک لاکھ روپے سیس کہیں زیادہ کا تقاضا ہواجو اُسی روز اداکیاگیا۔ اس کے بعد اب مکمل خاموشی ہے۔ تقاضے کے مطابق رقم ادا کر دی گئی ہے مگراب کام کیونکر ہوگا۔ کام فوراً ہونے یا کسی معیّنہ مدّت کے اندر ہونے سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے اور اگرفرض کر لیں کہ ہو بھی تو اسے نافذ کون کرے گا؟
دوسرا واقعہ ایک عزیز کا ہے ،جو جلد ہی 80 سال کے ہو جائیں گے ۔پچھلی صدی میں ایف آئی اے اور پولیس میں اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔اُس دور کے دفاتر کے رموز سے بخوبی واقف ہیں۔کہنہ سالی میں اپنا گھر تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تو گھر کے نقشہ کی منظوری کا مرحلہ درپیش ہوا۔ انہوں نے ابتدائی معلومات کے لیے دفاتر کے چکر لگائے۔ نقشہ کی فیس کے علاوہ تین ہزارروپے فی مرلہ کی ایک فیس اور بھی بتائی گئی۔ یہ اطلاع صرف ایک کھڑکی سے نہیں بلکہ اس شعبہ میں تین دیگرافراد سے بھی ملی۔ رقم بڑی تھی اس لیے میرے عزیز کا تجسّس بڑھا اور دفاتر کے چکربھی بڑھ گئے۔ بالآخر پتہ چلا کہ نقشہ منظوری کی فیس تو ضرور ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی اور فیس نہیں ہے۔ جو دوسری فیس بتائی جا رہی تھی، وہ اطلاع بے بنیادتھی۔ اس انکشاف پر بہت خوش ہوئے، درست فیس خزانے میں جمع کروائی اور نقشہ برائے منظوری داخل کروا دیا۔ اب اسے پہلی میز سے دوسری، دوسری سے تیسری اور بالآخر بیسیویں میز پر منظوری کیلئے کیونکر پہنچنا ہے؟ کوئی قانون تو ہے نہیں جو یہ کہے کہ یہ کام کتنے ایّام میں مکمل کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ایسا قانون ہو بھی تو اسے نافذ کون کرے گا؟ نقشہ پہلی میز پر ہی پڑا ہے۔
تیسرا واقعہ ایک ایسے عزیزکا ہے جو 80 سال سے اُوپر ہیں۔ اُن کی چار ایکڑزرعی اراضی کو ایک سرکاری ادارے نے قانون کے ذریعے جبراًلے لینے کی ٹھان لی ہے۔انہیں اس رقبہ کی فردملکیت درکار تھی تاکہ کوئی قانونی چارہ جوئی کر سکیں۔ موصوف دورانِ ملازمت کم و بیش دس سال صوبائی بورڈ آف ریونیوکے رکن رہ چکے ہیں۔ پنجاب میں نئے نظام کے نفاذ اور پٹواری کلچر کے خاتمے کے باوجود،اس بزرگ نے پٹواری کو سلام بھجوایا اور ساتھ مدد کی درخواست۔ وعلیکم السلام کے ساتھ منشی صاحب نے اطلاع بھجوائی کہ فرد کی فراہمی کے لیے دو لاکھ روپے درکار ہونگے۔ ہمارے قابلِ احترام بزرگ حیران ہوکر کہنے لگے کہ فرد ملکیت ہمیشہ سے سرکاری فیس کے علاوہ نذرانہ اداکرنے پر ہی ملتی تھی لیکن نئے نظام میں زیادہ ہی مہنگی ہو گئی ہے۔ اب فرد ملکیت کے بغیر قانونی چارہ جوئی کیونکر کریں۔
اتفاق سے یہ تینوںبزرگ چالیس چالیس سال سے زیادہ سرکاری ملازمت میں رہے ہیں۔ کس سرکاری دفتر میں کیا کام ہوتا ہے، کیسے ہوتا ہے، کیسے ہونا چاہیے وغیرہ سے بخوبی واقف ہیں۔ اُن کو حیران دیکھ کر میرے ذہن میں چند خیال آئے کیونکہ جب کوئی بزرگ حیران ہو تو ضرور توجّہ دینی چاہیے۔ یہ منظر روز روز نظر نہیں آتا۔ میں نے سوچا کہ حالات توہر جگہ بدل چکے ہیںاور بدلتے رہتے بھی ہیں اس پر حیرانی کیسی؟ ہاں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ تبدیلی کس نوعیت کی ہے، اس کا رُخ کس طرف ہے؟ ہمارے ہاں کوئی یہ دیکھ رہا ہے؟ کون دیکھ رہا ہے؟ میرے ذہن میں یہ بھی آیا کہ انتظامیہ کی حد تک، ایک بڑی تبدیلی 1972ء میں شروع ہوئی تھی جو بڑھتے بڑھتے 1986ء میں یہ ایک طوفان کی صورت ہوگئی جس میں ہماراانتظامی ڈھانچہ زمین بوس ہوگیا۔ اورآج یہ عالم ہے کہ نگران برائے نام نگران ہے اور جس کی نگرانی اس کے ذمّے ہے وہ بھی صرف برائے نام ماتحت ہے۔ یہ خیال میرے ذہن میں دوڑ ے لیکن ان کا اظہارمیں نے اس لئے مناسب نہ سمجھا کہ وہ ماشاء اﷲخود جانتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔
لیکن ان کی پریشانی دیکھتے ہوئے کچھ کہنا ضروری تھا۔ میں نے انکی توجّہ عا م شہری کے حالات کی طرف دلائی جو پہلے " بہتر " ہوا کرتے تھے لیکن گزشتہ نصف صدی کے دوران، کبھی آہستہ اور کبھی تیزی سے، خراب ہوتے رہے ہیں۔میں نے وضاحت کی کہ " بہتر "سے میری مراد یہ ہے کہ پہلے رشوت ستانی، اورمختلف شکلوں میں بد عنوانی، بہت کم ہوا کرتی تھی۔ بہت سے شعبے مکمل طور پر یا تقریباً اس لعنت سے پاک تھے ۔ اب ایسا نہیںہے۔ پہلے صرف غلط اور ناجائز کاموں کیلئے رشوت دینا پڑتی تھی۔ اب یہ تمیز ختم ہو گئی ہے۔ پہلے بہت سے غلط کام رشوت کے باوجود نہیں ہو سکتے تھے ۔آج تقریباًہر کام رشوت کی مدد سے ممکن ہے۔پہلے رشوت کے کاروبار کے ساتھ ایک جھجھک اورپردہ جڑے ہوا کرتے تھے۔ اب جھجھک جاتی رہی ہے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ رشوت کی مروّجہ رقوم یقینا بھاری ہو گئی ہیںلیکن اس کی بھی دو وجہیں ہیں۔ ایک تومہنگائی اور روپے کی قیمت میںکمی ۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ رشوت کے ذریعے اب بہت سے ایسے کام بھی کروائے جا سکتے ہیں جو پہلے ممکن نہ تھے جن کیلئے ہمت اور حوصلہ درکار ہوتے ہیں ۔لہٰذا ایسے کاموں کا معاوضہ زیادہ ہونا قدرتی بات ہے۔ میرے اس تجزیے میں ان بزرگوں کیلئے کوئی نئی بات نہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا المیہ اس سب سے کہیں بڑا ہے۔ ایک طرف تو ہر جائز اور ناجائز کام کیلئے بلا امتیاز رشوت کا تقاضہ ہے اور دوسری طرف صحیح اور قانونی ذریعے سے کام کے راستے بند ہو چکے ہیں۔ انسان کدھر جائے ؟ ریاست یا یوں کہیں کہ حکومت اس نئے نظام کی سرپرست ہے۔ اسے خاموش تماشا ئی کہنا بے جا اس کی عزّت افزائی ہے۔ احترام مجھ پر واجب تھااسلئے ایک تمہید کے بعد میں نے عرض کیا کہ ہمیںجو خرابی اپنے ماحول میں نظر آرہی ، اس سے انکار نہیں۔ اس کے بہت زیادہ بڑھ جانے اور ہر شعبہ اور سطح میں سرائیت ہو جانے سے بھی انکار ممکن نہیں۔ صحیح اور قانونی طریقوں کی راہیں مسدود ہیں۔صرف رشوت کا روٹ کھلا ہے، یہ بھی بالکل دُرست ہے۔ لیکن یہ سب اُسی دور کا بویا ہے جب ہم اور ہمارے ہم عصر اس کھیتی کیلئے ذمّہ دار تھے۔ کونسی برائی کی ہماری نسل نے، ہماری پیٹرھی نے آبیاری نہیں کی ؟ کونسی برائی کو روکنے کیلئے ہم نے کوئی قابل ِذکر اقدام کیا ؟ یہ سب خرابیاں یہاں تک کیا ہماری آبیاری کے بغیر پہنچی ہیں؟ ہماری اعانت کبھی خامشی کی شکل میں تھی ،کبھی محض دوسری طرف دیکھنا تھی،کبھی برائی میں ہم نے عملاًحصّہ ڈالا۔ کیا اس مقام پر پہنچنا بھر پور مدد اس کے بغیر ممکن تھا؟ تینوں بزرگ خاموش ہوگئے۔پتہ نہیں پریشانی کم ہوئی یا پشیمانی نے اس کی جگہ لے لی۔