موبائل فون کمپنی کا آئندہ ہفتے سے آپریشنز بندکرنیکاعندیہ
کراچی(رپورٹ:مظہر علی رضا)حکومت کی جانب سے موبائل فونز تیار کرنے والی مقامی کمپنیوں کو خام مال کی در آمد کیلئے زرمبادلہ فراہم نہ کرنے کے باعث چین کے ساتھ مشترکہ طور پر۔۔۔
کام کرنے والی ایک کمپنی نے آئندہ ہفتے سے اپنے آپریشنز مکمل طور پربند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس سے نہ صرف مقامی انجینئرز سمیت 3ہزار سے زائد لوگ بے روزگار ہوجائیں گے بلکہ نئے پلانٹ کی تیاری کیلئے دو ارب روپے کی چینی سرمایہ کاری کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ جا ئے گا۔تفصیلات کے مطابق ملک میں ڈالرکی کمی کے باعث دیگر صنعتوں کی طرح موبائل فون تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی زرمبادلہ فراہم نہیں کیا جارہا،موبائل فون تیار کرنے والی کمپنیوں کو خام مال کی در آمد کیلئے 8کروڑ30لاکھ ڈالر کی ضرورت ہے تاہم بینکوں کی جانب سے موبائل فونز کی مقامی سطح پر تیاری کیلئے ایل سیز نہیں کھولی جارہی،اس صورتحال کے باعث موبائل فونز تیار کرنے والی مقامی کمپنی ٹیکنو موبائل پاکستان نے آئندہ ہفتے سے اپنے آپریشنز مکمل طور پر بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔کمپنی میں ٹیکنو پاکستان 60فیصد کی مالک ہے جبکہ 40فیصد حصص چینی کمپنی ٹرانسیشن چائنا کے پاس ہیں،مشترکہ منصوبے کے تحت سال2019میں ٹیکنو موبائل پاکستان نے کراچی میں کورنگی انڈسٹریل پارک میں 750ملین روپے کی سرمایہ کاری سے دو پلانٹس لگائے تھے ،ان پلانٹس میں مجموعی طور پر ماہانہ 8لاکھ 25ہزار اسمارٹ فونز بنانے کی گنجائش ہے ۔
مالی سال2021-22میں کمپنی ماہانہ 3لاکھ اسمارٹ فونز تیار کرتی تھی تاہم خام مال کی عدم دستیابی کے باعث جولائی2022سے اب تک ماہانہ 1لاکھ اسمارٹ فونز بنائے جارہے ہیں۔خام مال کی عدم دستیابی کے باعث ایک پلانٹ جولائی2022سے مکمل بند ہے جبکہ دوسرا پلانٹ 40فیصد گنجائش پر چل رہا ہے مگر یہ پلانٹ بھی آئندہ ہفتے مکمل طور پر بند ہوجائیگا۔ دونوں پلانٹ کی بندش کے باعث یہاں کام کرنے والے انجینئرز اور کاریگروں سمیت 3ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہوجائینگے ۔ٹینکو موبائل پاکستان میں 12چینی منیجرز بھی کام کررہے تھے ،تاہم پلانٹ کی بندش اور خام مال نہ ہونے کے باعث10چینی منیجرز پہلے ہی واپس جاچکے ہیں جب کہ دوسرے پلانٹ کے بند ہونے پر بقیہ دو چینی منیجرز بھی وطن واپس چلے جائینگے ۔ان دونوں پلانٹس کی بندش سے نہ صرف 3ہزار مقامی افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے بلکہ ٹرانسیشن چائنا کی جانب سے مقامی مارکیٹ اور بر آمدی مقاصد کیلئے نئے پلانٹ کی تعمیر کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ جائیگا،یہ نیا پلانٹ18ایکڑ رقبہ پر تعمیر کیا جانا تھاجس پر 1ارب80کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ تھا تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے موبائل فونز بنانے والی کمپنیوں کو زرمبادلہ فراہم نہ کئے جانے اور خام مال کی عدم دستیابی کے باعث چینی شراکت داروں نے فی الحال اس منصوبے میں سرمایہ کاری سے معذرت ظاہر کردی ہے ۔ملک میں موبائل فونز تیار کرنے والی کمپنیوں کی بندش سے نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ اور خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ ڈیجیٹائزیشن کے خواب کو پورا کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments