پی آئی اے ملازمین کو برطرف نہیں کیا جا رہا،عارف حبیب

پی آئی اے ملازمین کو برطرف نہیں کیا جا رہا،عارف حبیب

کراچی (رپورٹ:محمدحمزہ گیلانی) معروف بزنس مین عارف حبیب نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے ملازمین کو برطرف نہیں کیا جا رہا۔

ایک سال بعد کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا، عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی کامیاب بولی کا سہرا مکمل طور پر حکومتی اصلاحات کو جاتا ہے ، جنہوں نے ایک طویل عرصے بعد قومی ایئرلائن کو سرمایہ کاروں کیلئے قابلِ قبول بنایا، عارف حبیب کے مطابق شرح سود میں نمایاں کمی، روپے کی قدر میں استحکام اور عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نے پی آئی اے کی نجکاری کو ممکن بنایا، انکا کہنا تھا کہ اگر یہ معاشی اصلاحات نہ ہوتیں تو نجکاری کا عمل بھی کامیاب نہ ہو پاتا، انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کی پہلی بولی کی ناکامی انتظامیہ کی غفلت اور کمزور تیاری کا نتیجہ تھی، فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی پارٹنرشپ کے سوال پر انکا کہنا تھا کہ عارف حبیب کنسورشیم اور پی آئی اے فوجی فرٹیلائزر کی وجہ سے اور مضبوط ہوئی ہے ، انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز میں سے 25 فیصد شیئرز فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس ہوں گے ، جبکہ 25 فیصد شیئرز عارف حبیب اور فاطمہ فرٹیلائزر کے ہوں گے ، اور باقی 25 فیصد شیئرز دیگر کنسورشیم ممبرز کے پاس ہوں گے ۔

عارف حبیب کے مطابق کنسورشیم میں مزید ایک نئے پارٹنر کی شمولیت کی گنجائش تاحال موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو ایک سال تک تقریباً 70 ارب روپے کے خسارے کے ساتھ چلایا جائے گا، جسکے بعد کمپنی کے منافع میں آنے کی توقع ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے ملازمین کو برطرف نہیں کیا جا رہا، ایک سال بعد کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے 32 جہازوں میں سے 17 اس وقت آپریشنل ہیں، جبکہ باقی طیاروں کو فوری طور پر فعال کیا جائے گا، بزنس پلان کے تحت پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن38 جہازوں تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا حکومت نے پاکستان اسٹیل مل کی فروخت کی ڈیل ختم کر کے بھاری نقصان اٹھایا، جبکہ ملک کے دیگر سرکاری اداروں کے خسارے وہاں موجود افسران کے ذاتی مفادات کے باعث بڑھ رہے ہیں۔ معروف بزنس مین نے کہا پی آئی اے کی زبوں حالی کی اصل وجہ قرض پر قرض اور اس پر بھاری سود کی ادائیگیاں تھیں۔عارف حبیب نے کہا کہ سرمایہ کاری، اصلاحات اور درست فیصلوں کے ذریعے ہی قومی اداروں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکتا ہے اور پی آئی اے کی نجکاری اسی سمت میں ایک اہم اور فیصلہ کن قدم ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں