"SBA" (space) message & send to 7575

نیو ورلڈ آرڈر یا ورلڈ وار تھری

عالمی منظر نامے پر حالات کی رفتار جیٹ سپیڈ یا سپرسونک نہیں بلکہ ہائپر سونک ہو گئی۔ سیاسیاتِ اقوام کی بساط پر اس قدر بے یقینی پہلے کبھی شاید ہی دیکھی گئی ہو۔ جنگی ٹیکنالوجی‘ جھوٹ کی ٹیکنالوجی‘ انسانی تباہی کی ٹیکنالوجی‘ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی‘ سب پیچھے رہ گئیں۔ غریب‘ ترقی پذیر‘ پسماندہ ملکوں اور برّاعظموں میں قدرتی وسائل پر ممکنہ ڈکیتی کی نشاندہی ہم نے وکالت نامہ میں ایک سے زیادہ بار کر رکھی۔ کھل کر کہا کہ امریکہ کی نیت درست نہیں ہے۔ نہ ہی پاکستان کے ساتھ اُس کی کوئی سٹرٹیجک ہمدردی یا دلچسپی ہے۔ امریکہ بہادر کی نظر ایک بار پھر اپنی آئی ٹی انڈسٹری کی اگلی جنریشن اور وار ٹیکنالوجی کی اگلی سے اگلی جنریشن کے لیے قیمتی قدرتی وسائل پر ہے‘ جو پاکستان سے وینزویلا تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اقتصادیاتِ عالم میں اسے Precious minerals and crude oil banks کا نام دیا جاتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ 250 سال بعد امریکی پالیسی ایک بار پھر Native Americans کے دور کی طرف لوٹ گئی ہے۔ یہ انسانیت کے سب سے بڑے قتلِ عام کا وہ خونیں دور تھا جب مغربی ملکوں کے پناہ گزین مختلف ہتھیاروں سے مسلح ہوکر ریڈ انڈینز‘ جو اصلی امریکن تھے‘ کا شکار لومڑی اور خرگوش کی طرح کرنا شروع ہوئے تھے۔ مقامی آبادی کے وسائل‘ بچوں‘ گھوڑوں اور زمینوں پر قبضہ کر کے ان وار لارڈز نے اپنی سڑکیں‘ اپنی ریلوے پٹریاں‘ اپنے فارم ہائوسز اور اپنی رہائشی بستیاں تعمیر کرنا شروع کر دیں۔ اس حوالے سے یو ایس اے کی دو تازہ پالیسیاں ایسی ہیں جنہوں نے اگرچہ عالمی ضمیر کو تو نہیںجھنجھوڑا لیکن عالمی سطح پر خطرے کے الارم اور ٹلّیاں ضرور کھڑکا ماررہی ہیں۔ اس خطرے نے دو جہتی محاذ کھول چھوڑے ہیں۔
یو ایس اے کا عالمی ملکیتی پہلا اعلان: اسے ہماری تاریخ میں ایک بدنما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے کا کہ ہم عالمی توسیع پسندی کے وقت امریکہ کے معمولی سے سہولت کار مگر بڑے سے بڑے تابعدار بنے رہے۔ گریٹر اسرائیل کے لیے غزہ کی پٹی کو تہہ در تہہ چار مختلف ضمنی ''غزہ جات‘‘ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ غزہ کی اس تقسیم در تقسیم کا تازہ مکروہ منصوبہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بنایا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کی سرزمین پر امریکہ کے بلین ڈالر گینگ کے لیے اس کے سول پروپرائیٹر اور پروموٹر بن گئے۔ مسلم ممالک اور اُن کے منیجرز نے اپنے اپنے ملکوں میں ڈھول بجایا کہ ہم غزہ کی حفاظت کا مقدس فریضہ سرانجام دینے کے لیے چن لیے گئے۔ اس پہ تو خراسانی گدھا بھی یقین نہیں کرے گا کہ غزہ کی حفاظت اسرائیل یا امریکہ سوچ بھی سکتے ہیں۔ ایسا کچھ کرنا تو درکنار اور دور کی بات ہے۔ امریکی صدر نے اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے اس پر UNO کی سیکورٹی کونسل میں اپنے منصوبے کی حمایت کے لیے مسلم منیجرز سے ووٹ بھی ہتھیا لیے‘ جس کے بعد اسرائیل نے کھل کر کہا ہے کہ غزہ پلان کا سب سے بڑا نکتہ اور پہلا قدم حماس کو ڈِس آرم کرنا ہے۔ ماسوائے ایران کے اس وقت کوئی مسلم ریاست ایسی نہیں جس کا سیاسی قبلہ وائٹ ہائوس نہ ہو۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا جن کا سیاسی قبلہ وائٹ ہائوس ہے اُن میں کئی ایک نے اسرائیل کو کھل کر تسلیم کر رکھا ہے۔ جو باقی بچ گئے وہ اپنے ملک میں مقامی زبان کے اندر اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ انگریزی نیتن یاہو کو بھی آتی ہے اور صدر ٹرمپ کو بھی۔ یو ایس اے غزہ میں کمرشل ایریا انکلیو کا سب سے بڑا اور اکلوتا مالک ہو گا۔ ہمیں خوشی ہو گی اگر حکومتِ پاکستان کا کوئی ترجمان اس پلان کی تردید کر سکے‘ جس کے وہ گُن گاتے رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی حمایت سے قبلۂ اوّل اور فلسطین کی آزادی کے لیے لڑنے والی تمام پراکسی ملیشیا اور اُن کی پہلی لائن کی لیڈرشپ تقریباً ختم کی جا چکی ہے۔ یہ امریکہ اور اُس کے مغربی حامی ممالک کی سلطنت عثمانیہ توڑنے اور اسرائیل کے قیام کے بعد سب سے بڑی فتح ہے۔
یہاں سے آگے یو ایس اے کے نئے ورلڈ آرڈر‘ جس کا نام ٹرانس نیشنل اونرشپ رکھا جا سکتا ہے‘ کا آغاز ہوا۔ وینزویلا دوسرا غزہ ہے۔ جنت نظیر غزہ کے پاس ڈیپ سی ہے۔ وینزویلا کے پاس کیا نہیں ہے؟ سارے مہنگے میٹل سب سے زیادہ مقدار میں اُسی کے پاس ہیں۔ شب گزشتہ صدر ٹرمپ نے بلین ڈالر گینگ کی میٹنگ منعقد کی۔ جہاںوینزویلاکے اثاثوں کو استثنیٰ دے کر تمام رقوم بینکوں سے نکلوانے پرپابندی لگا دی۔ تیل کمپنیوں میں تیل کا کوٹہ بھی تقسیم کر دیا۔ جی ہاں وینزویلا کے تیل کا کوٹہ۔
یو ایس اے کا عالمی ملکیتی دوسرا اعلان: اس کا آغاز صدر ٹرمپ نے صومالیہ سے کیا۔ جہاں ایک پرو اسرائیل صومالی لینڈ ریاست کا اعلان ہوا۔ جسے سب سے پہلے اسرائیل نے ہی تسلیم کیا۔ سب جانتے ہیں صومالیہ اوّل وآخر مسلم ملک ہے۔ ادھر سعودی عرب اور یو اے ای بجنگ آمد ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تائیوان پر امریکی پالیسی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے یہ بیان دیا۔ چینی صدر شی جن پنگ کہتے ہیں‘ تائیوان جزیرہ چین کا ہے۔ اس لیے چینی صدر جو مناسب سمجھتے ہیں‘ وہ کریں گے۔ لطف کی بات یہ ہے امریکہ نے تائیوان کے ساتھ ویسا ہی معاہدہ کر رکھا ہے جیسا ہم نے سٹرٹیجک معاہدہ سعودی عرب سے حال ہی میں سائن کیا۔ چین اور جاپان کے مابین کچھ جزیروں پر سخت کشیدگی شروع ہے۔ دونوں ملکوں نے اپنے اپنے شہریوںکو چین اور جاپان جانے کے لیے Negative Travel Advice پر ڈالا ہے۔ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو بھی اپنی ملکیت کہتے ہیں۔ گرین لینڈ پہ قبضے کا مطلب نیٹو کی ارتھی جلانا ہے۔ برسلز میں صدر ٹرمپ نے اس سے بھی بڑا کمال کر دکھایا۔ تب جب کینیڈا کے وزیراعظم مارک ہنری سے ٹرمپ صاحب نے یہ فرمائش کی‘آپ کینیڈا کے Precious Minerals ہمارے حوالے کر دیں۔ روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کی آدھی بجلی اُڑا دی ہے۔ کیف شہر کے میئر نے کہا‘ روس کی طرف سے بمباری کے نتیجے میں آدھے شہر کی عمارتیں ناقابلِ رہائش ہو چکی ہیں۔ 30 لاکھ میں سے 15 لاکھ لوگوں کی آبادی پناہ گاہوں کی تلاش میں ہے۔ یہ بھی لطف کی بات ہے کہ ایک سابق امریکی صدر نے یوکرین سے بھی سٹرٹیجک ڈیفنس معاہدہ کیا تھا۔
ان حالات میں خدا نہ کرے‘ نیو ورلڈ آرڈر کی جنگوں کے بطن سے کوئی ایسی چنگاری نکلے جو دنیا کے لیے ورلڈ وار تھری کا شعلۂ جوالا ثابت ہو۔ ہماری تیاریاں جلسے روکنا‘ جلوس بند کرنا اور جنریشن زی سے تھرتھر کانپنے کے درمیان گھوم رہی ہیں۔
ریاست کی بے سمتی ایسی‘ جیسے شاعر نے کہی:
کہاں حکایتِ شیریں دہان و شہد لباں
کہ ایک سیر شکر کا نہ مل سکا پرمٹ
کہ دفتروں کو چلاتے ہیں تلخ گو بابو...

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں