تعاون بڑھانے ، نظام ڈیجیٹل خطوط پراستوار کرنے پرنیب، آباد متفق
آباد ہاؤس کی تقریب میں کاروباری شخصیات کی بھی شرکت، متعدد بڑے اعلانات فراڈ اسکیمیں زیادہ پریشان کن، ڈی جی نیب، کیسز کاخاتمہ خوش آئند، چیئرمین آباد
کراچی(کامرس رپورٹر)کراچی میں اراضی کے تنازعات، ہاؤسنگ منصوبوں کی شفافیت اور تعمیراتی شعبے کو درپیش رکاوٹوں کے حل کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں قومی احتساب بیورو اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد)کے درمیان تعاون کومضبوط بنانے اور نظام کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے پر اتفاق کیا گیا، آباد ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں نیب کے اعلیٰ حکام، بلڈرز و ڈیولپرز اورکاروباری شخصیات نے شرکت کی،جبکہ متعدد بڑے اعلانات نے مستقبل کے لائحہ عمل کی سمت واضح کردی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی نیب راولپنڈی اور اسلام آباد وقار احمد چوہان نے کہا کہ شہریوں کو سب سے زیادہ مسائل فراڈ ہاؤسنگ اسکیموں اور غیر منظور شدہ منصوبوں سے پیش آتے ہیں۔ اسی تناظر میں پہلی بار جامع آن لائن پراپرٹی سسٹم تیار کرلیا گیا۔ ابتدائی مرحلے میں 1 ہزار 26 سوسائٹیوں کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اس میں شامل کئے ہیں اور یہ تعداد بتدریج بڑھائی جائیگی۔ اس نظام سے ہر شخص سرمایہ کاری سے قبل مستند معلومات حاصل کرسکے گا۔
ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے کہا کہ چیئرمین نیب کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ کاروباری برادری کو سہولت دی جائے اور بلاجواز ہراساں نہ کیا جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت تمام ریجنل دفاتر میں خصوصی بزنس آفس قائم کیے گئے ہیں جہاں تاجر اور بلڈرز براہِ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔ چیئرمین آباد حسن بخشی نے کہا کہ بلڈرز کے خلاف قائم 13 بے جا کیسز کا خاتمہ خوش آئند اقدام ہے ، مگر اسکے ساتھ سرکاری محکموں میں پائی جانے والی بدعنوانی اور تاخیر کے کلچر کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ آباد کے پیٹرن اِنچیف محسن شیخانی نے کہا کہ زمینوں سے متعلق اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن نہ ہونے سے ریکارڈ محفوظ نہیں رہتا اور شہریوں کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ تقریب میں مجموعی طور پر اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ شفاف، قابلِ تصدیق اور آن لائن معلومات کی فراہمی ہی رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اعتماد بحال کرسکتی ہے ، نیب کا آن لائن پراپرٹی سسٹم اور حکومت کے ساتھ مل کر بنائی جانے والی ٹاسک فورس کو اس سمت میں اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے ، جس سے توقع کی جارہی ہے کہ سرمایہ کاروں،خریداروں اور تعمیراتی صنعت کودرپیش دیرینہ مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔