رائس ایکسپورٹ سبسڈی کا اثر مقامی مارکیٹ پر منتقل

رائس ایکسپورٹ سبسڈی کا اثر مقامی مارکیٹ پر منتقل

کراچی(بزنس رپورٹر)چیئرمین گروسرز اینڈ ہول سیلرز ایسوسی ایشن عبدالرؤف ابراہیم نے باسمتی چاول کی قیمتوں میں حالیہ تیزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایکسپورٹ کو دی جانے والی سبسڈی کے اثرات براہ راست مقامی صارفین پر منتقل ہو رہے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ میں باسمتی چاول کی فی کلو قیمت میں ساٹھ روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ان کے مطابق پالیسی سازی کے دوران مقامی طلب ورسد کے توازن کو نظر انداز کیا گیا جس کا نتیجہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں سامنے آیا ۔عبدالروف ابراہیم نے دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں باسمتی چاول کی سالانہ پیداوار تقریباً 35 لاکھ ٹن ہوتی ہے جبکہ مجموعی کھپت28لاکھ ٹن تک پہنچ جاتی ہے ،ایسے میں محدود مقدار کو سہارا دینے کیلئے دی گئی مراعات پوری مارکیٹ کو متاثر کر رہی ہیں ۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً 8لاکھ ٹن کیلئے دی گئی10فیصد سپورٹ نے قیمتوں میں غیر متناسب اضافہ پیدا کیا ہے ۔ مزید برآں انہوں نے نشاندہی کی کہ رائس ایکسپورٹرز کے اندر گروپنگ اور مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے مارکیٹ میں شفافیت متاثر ہو رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایری 6 چاول کی پیداوار ملک میں زیادہ ہے مگر اس پر سپورٹ محض 3 فیصد رکھی گئی ہے ۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فرق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باسمتی کے نام پر ایری چاول کی برآمدات کر کے زیادہ مراعات حاصل کی جا سکتی ہیں، جس سے اوور انوائسنگ کے امکانات بڑھیں گے ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں