فائیٹوسینیٹری سرٹیفکیٹ نہ ملنے پر ایران کوآم کی برآمدات خطرے میں

فائیٹوسینیٹری سرٹیفکیٹ نہ ملنے پر ایران کوآم کی برآمدات خطرے میں

یکم جون سے برآمدات شروع، سرٹیفکیٹ نہ ملنے پرایکسپورٹرز تشویش میں مبتلا ہوگئے ایران کی جانب جانے والی آم کی ہر کھیپ کی سخت نگرانی کی جائے ، کسٹم کلکٹریٹ گڈانی

پنگریو (نمائندہ دنیا)پاکستان سے آم کی برآمدات کے باضابطہ آغاز کے باوجود ایران کیلئے فائیٹوسینیٹری سرٹیفکیٹ جاری نہ ہونے پربرآمد کنندگان تشویش میں مبتلا ہو گئے ۔ یکم جون سے آم کی برآمدات شروع ہورہی ہیں، تاہم نئی صورتحال نے سندھ کے ایکسپورٹرز، کاشتکاروں اور تاجروں میں بے چینی پیدا کر دی، کیونکہ سندھ کا آم ملک بھر میں سب سے پہلے تیار ہو کر مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں پہنچتا ہے ۔ کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ گڈانی کی جانب سے جاری مراسلے میں تمام سرحدی حکام کو ہدایت کی گئی کہ ایران کی جانب جانے والی آم کی ہر کھیپ کی سخت نگرانی کی جائے ۔ مراسلے کے مطابق 30 مئی 2026 تک ایران کیلئے کسی بھی قسم کا ریگولیٹری فائیٹوسینیٹری سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا، اس لیے بغیر مطلوبہ دستاویزات کے روانہ ہونے والی کسی بھی کھیپ کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دی جائے ۔ آم برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ سندھڑی، سرولی، دوسہری اور دیگر اعلیٰ اقسام کے آم جون کے آغاز میں تیار ہو جاتے ہیں اور برآمدی سیزن کے ابتدائی دنوں میں بیرون ملک منڈیوں تک رسائی انتہائی اہم ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آم ایک جلد خراب ہونے والی فصل ہے ، اس لیے برآمدی عمل میں تاخیر یا غیر یقینی صورتحال سے لاکھوں روپے کے مالی نقصانات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ ایکسپورٹرز کے مطابق ایران پاکستانی آم کے لیے ایک اہم تجارتی منڈی ہے جبکہ ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی بھی حاصل ہوتی ہے ۔ اگر سرٹیفکیٹ کے اجرا میں مزید تاخیر ہوئی تو نہ صرف برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ کاشتکاروں کو بھی اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ زرعی ماہرین کے مطابق فائیٹوسینیٹری سرٹیفکیٹ بین الاقوامی تجارت کا ایک لازمی تقاضا ہے جس کے ذریعے یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ زرعی اجناس بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں سے پاک ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنی زرعی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایسی دستاویزات کو لازمی قرار دیتے ہیں اور ان کے بغیر درآمدات کی اجازت نہیں دیتے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں