برآمدی شعبے ،کراچی کے مسائل نظر انداز،زبیر موتی والا
بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا، چیئرمین بزنس مین گروپ معاشی خودمختاری کے لئے آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنا ہوگا ،پریس کانفرنس
کراچی(بزنس رپورٹر)کاروباری برادری نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے برآمدات، صنعت اور کراچی کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا ہے جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کی پالیسی برقرار رکھی گئی ہے ۔کراچی چیمبر میں بجٹ کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی ایم جی گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ بجٹ کا تفصیلی جائزہ ابھی لینا باقی ہے ، اس لیے اسے مکمل طور پر اچھا یا برا قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ابتدائی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدی شعبے کیلئے کوئی بڑی سہولت یا مراعات نہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ بڑھا رہی ہے جبکہ ٹیکس نیٹ میں نئے افراد اور شعبوں کو شامل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے ۔ ان کے مطابق بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مستقبل کے ماڈل اور اصلاحات کے بارے میں بھی واضح سمت متعین نہیں کی گئی۔ زبیر موتی والا نے کہا کہ پاکستان کو معاشی خودمختاری کیلئے بالآخر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر انحصار کم کرنا ہوگا اور ایسی پالیسیاں بنانا ہوں گی جو مقامی صنعت، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دے سکیں۔ انہوں نے سرکاری اکنامک سروے میں پیش کیے گئے بعض اعداد و شمار پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برآمدی شعبے کیلئے بجٹ میں کوئی خوش آئند اعلان سامنے نہیں آیا۔