بلنک کیپٹل مینجمنٹ کاکیس مزیدقانونی کارروائی کیلئے ایف آئی اے کے سپرد
35سرمایہ کاروں کے مجموعی 44کروڑ 66لاکھ کے کلیمز، سکیورٹیز وایکسچینج کمیشن بڑی رقوم اسوقت کے سی ای او ودیگر کے اکاؤنٹ منتقل ہوئیں، تحقیقات میں انکشاف
کراچی(کامرس رپورٹر)سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سرمایہ کاروں کے ساتھ مبینہ مالی فراڈ کے سنگین معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے بلنک کیپٹل مینجمنٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا کیس مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کو بھجوا دیا ہے ایس ای سی پی کے مطابق کمپنی کے خلاف 35 سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 44 کروڑ 66 لاکھ 64 ہزار روپے کے کلیمز سامنے آئے ہیں ایس ای سی پی نے سرمایہ کاروں کی شکایات پر فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 کی دفعہ 83 کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا تھاتحقیقات میں کمپنی کی جانب سے مبینہ طور پر سرمایہ کاروں سے غیر مجاز طور پر رقوم حاصل کرنے ، مقررہ منافع کی یقین دہانی کرانے اور۔۔
اصل رقم کی واپسی کی ضمانت دینے کے معاملات کا جائزہ لیا گیاکمیشن کی تحقیقات کے مطابق 29 شکایت کنندگان سے متعلق 40 کروڑ 86 لاکھ روپے کے مالی لین دین کا تفصیلی سراغ لگایا گیا تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بڑی رقوم بلنک کیپٹل مینجمنٹ، کمپنی کے اُس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ڈائریکٹر سمیت بعض ملازمین اور متعلقہ افراد کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں، جبکہ قابل ذکر رقوم نقد کی صورت میں بھی نکلوائی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سرمایہ کاروں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن میں انہیں ماہانہ 3.7 فیصد سے سالانہ 48 فیصد تک پہلے سے طے شدہ منافع دینے کی پیشکش کی گئی۔سرمایہ کاری کی اصل رقم کی واپسی کی ضمانت کے لیے سرمایہ کاروں کو پوسٹ ڈیٹڈ چیکس بھی جاری کیے گئے دستیاب شواہد کی بنیاد پر ایس ای سی پی کی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بلنک کیپٹل مبینہ طور پر فراڈ سرمایہ کاری اسکیم چلا رہی تھی۔تحقیقات کے دوران کمپنیز ایکٹ 2017، فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 اور فیوچرز بروکرز لائسنسنگ اینڈ آپریشنز ریگولیشنز 2018 کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ایس ای سی پی نے ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کی دفعہ 41-Bکے تحت کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کی منظوری دی ہے تاکہ مزید تحقیقات کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments