کم ازکم اجرت 40700، یکم جولائی سے نئی شرح کااطلاق
وفاقی حکومت نے ای اوبی آئی کنٹری بیوشن کی نئی شرح بھی مقرر کردی آجرکا 5فیصد 2ہزار 35، بیمہ دار ملازم کاایک فیصد حصہ 407روپے ہوگا
اسلام آباد(این این آئی)وفاقی حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد کے صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے غیر ہنر مند اور کمسن کارکنوں کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار 700 روپے مقرر کردی۔ اس حوالے سے 19 اگست کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی کم از کم اجرت کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹیٹیوشن کے سابق افسر تعلقاتِ عامہ اور ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان اسرار ایوبی کے مطابق وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے ای او بی آئی کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید احمد شیخ نے کنٹری بیوشن کی نئی شرح کی منظوری دیدی۔انہوں نے بتایا کہ ای او بی آئی کے بینی فٹس اینڈ کنٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محمد امین نے 20 اگست کو سرکلر نمبر 01/2026-27 کے ذریعے رجسٹرڈ اداروں کیلئے ماہانہ کنٹری بیوشن کی نئی شرح کا اعلان کیا ہے۔
ای او بی آئی ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ 1976 کے تحت رجسٹرڈ اداروں سے ہر بیمہ دار فرد کیلئے کم از کم اجرت کے 6 فیصد کے مساوی ماہانہ کنٹری بیوشن وصول کرتا ہے ۔ نئی کم از کم اجرت 40 ہزار 700 روپے مقرر کیے جانے کے بعد آجر کا 5 فیصد حصہ 2 ہزار 35 روپے جبکہ بیمہ دار ملازم کا ایک فیصد حصہ 407 روپے ماہانہ مقرر کیا گیا۔ ای او بی آئی نے تمام رجسٹرڈ آجران کو ہدایت کی کہ وہ ملازمین کے کنٹری بیوشن مقررہ وقت پر جمع کرائیں تاکہ بیمہ دار کارکنوں اور انکے لواحقین کو پنشن سمیت دیگر فوائد کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments