ایکسائز دفتر میں ٹائوٹ مافیا کا راج رشوت عام

ایکسائز دفتر میں ٹائوٹ مافیا کا راج رشوت عام

بعض افسر اور ملازمین سرکاری امور کی انجام دہی کیلئے نجی افراد کو ساتھ ملا کر کام کروا رہے ہیں،سائلین کی درخواستوں پر اعتراضات لگا کر نذرانوں کا راستہ کھولا جاتا ہے

فیصل آباد (عبدالباسط سے )محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن پنجاب کے مقامی دفتر میں مبینہ طور پر ٹاؤٹ مافیا اور نجی افراد کے اثر و رسوخ کا انکشاف ہوا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بعض افسران اور ملازمین سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے نجی افراد کو ساتھ ملا کر کام کروا رہے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ جائیداد ٹیکس، پیشہ ورانہ ٹیکس، گاڑی ٹیکس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق مختلف شاخوں میں آنے والے سائلین کی درخواستوں پر اعتراضات لگا کر انہیں واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔ بعد ازاں یہی کام دفتر کے باہر موجود ٹاؤٹوں کے ذریعے باآسانی کروا دیے جاتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ نجی افراد مختلف کاموں کے عوض بھاری رقوم طلب کرتے ہیں اور مبینہ طور پر ان رقوم کا بڑا حصہ متعلقہ افسران و ملازمین تک پہنچایا جاتا ہے ۔

ٹاؤٹ مافیا کی جانب سے کھلے عام دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ افسران کی ملی بھگت سے شہریوں کے مسائل حل کرواتے ہیں۔یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض اہلکار دفتری اوقات میں ہی سائلین کو وقت ختم ہونے کا جواز بنا کر واپس لوٹا دیتے ہیں، جبکہ بعد میں ٹاؤٹوں کے ذریعے وہی کام انجام دیے جاتے ہیں۔ شہریوں کی جانب سے متعدد بار شکایات درج کروائی گئیں، تاہم مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسائز دفتر میں ٹاؤٹ مافیا کے عمل دخل کا فوری خاتمہ کیا جائے اور ملوث افسران و ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ سائلین کو شفاف اور بہتر سہولیات فراہم ہو سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں