کروڑوں کی مبینہ کرپشن، سابق ایڈیشنل کمشنر کیخلاف نیب کا گھیرا تنگ
30 لاکھ روپے جعلی بلوں کے ذریعے نکلوانے ، 6 کروڑ بغیر منظوری خرچ کرنے کا الزام،چیف سیکرٹری پنجاب سے ریکارڈ طلب ،معاملہ ذاتی عناد اور انتقامی کارروائی کا نتیجہ :عامر رضا
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )قومی احتساب بیورو (نیب)نے سابق ایڈیشنل کمشنر کوآرڈی نیشن عامر رضا کے خلاف کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کیس میں گھیرا تنگ کر دیا اورچیف سیکرٹری پنجاب سے فوری مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے سابق ایڈیشنل کمشنر عامر رضا اور سابق پرنسپل ڈی ایم سی مرزا یسین کے خلاف تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن فیصل آباد کے متعدد افسر بھی اس مبینہ سکینڈل میں شامل ہیں جنہوں نے ترقیاتی منصوبوں کو ذاتی کمائی کا ذریعہ بنایا اور ٹھیکیداروں سے بلوں کی منظوری کے عوض بھاری نذرانے وصول کئے ۔شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 12 سرکاری سکولوں کیلئے مختص 30 لاکھ روپے کی رقم جعلی بلوں کے ذریعے نکلوائی گئی جبکہ میرٹ کے برعکس غیر قانونی بھرتیاں کرکے نذرانے لئے گئے۔
مزید برآں 6 کروڑ روپے کی خطیر رقم بغیر منظوری خرچ کرنے اور مبینہ طور پر خرد برد کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔نیب کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب اس سے قبل بھی 12 جنوری اور 24 مئی 2024 کو متعلقہ حکام سے خط و کتابت کر چکا ہے تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے پر اب دوبارہ سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب سے مکمل ریکارڈ اور وضاحت طلب کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا کر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب سابق ایڈیشنل کمشنر عامر رضا نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ ذاتی عناد اور انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے ،سابق ایڈیشنل کمشنر مسور نیازی اور آصف چودھری نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے نیب میں یہ معاملہ ،وہ ہر الزام کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔