میونسپل کارپوریشن : کرپٹ افسروں ، ملازمین کا گٹھ جوڑ
کمشنر کے احکامات کے باوجود نااہل ملازمین کیخلاف کارروائی نہ ہو سکی، مبینہ طور پر انچارج لائٹ برانچ نے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے کارروائی رکوا دی اور مراسلہ دبا لیا گیا
فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )میونسپل کارپوریشن فیصل آباد مبینہ طور پر کرپٹ ملازمین کے لیے جنت بن گئی، جہاں کمشنر کے واضح احکامات کے باوجود نااہل ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جا سکی۔ڈویژنل کمشنر کی جانب سے موصول ہونے والی عوامی شکایات پر لائٹ برانچ انچارج کے خلاف انکوائری کروائی گئی، جس کے لیے اسسٹنٹ کمشنر جنرل کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا۔ تحقیقات مکمل ہونے پر انکوائری رپورٹ میں انچارج لائٹ برانچ عبدالوحید کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔
اسسٹنٹ کمشنر جنرل نے 10 مارچ 2026 کو چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کیا، جس میں ہدایت کی گئی کہ عبدالوحید کو عہدے سے ہٹا کر کسی دوسری جگہ تعینات کیا جائے ، تاہم 22 روز گزرنے کے باوجود اس حکم پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ذرائع کے مطابق میونسپل کارپوریشن میں کرپٹ افسران اور ملازمین کا مضبوط گٹھ جوڑ قائم ہے ، جس کے باعث اعلیٰ حکام کے احکامات کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ مبینہ طور پر انچارج لائٹ برانچ نے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے کارروائی رکوا دی اور مراسلہ دبا لیا گیا۔
واضح رہے کہ عبدالوحید پر ماضی میں جعلی ڈپلومہ پر بھرتی ہونے کے الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں، جس پر مقدمہ درج ہونے کے بعد اسے ملازمت سے برخاست کیا گیا، تاہم بعد ازاں اپیل پر بحال کر دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ 6 اکتوبر 2007 کو پانچ سالہ کنٹریکٹ پر بھرتی ہوا تھا اور توسیع کے بغیر تاحال ملازمت پر برقرار ہے ۔بطور انچارج لائٹ برانچ اس کے خلاف عوامی شکایات معمول بن چکی ہیں، لیکن اثر و رسوخ کے باعث اس کے خلاف کبھی مؤثر کارروائی نہیں ہو سکی۔اس حوالے سے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن مرتضیٰ ملک کا کہنا ہے کہ عبدالوحید کے خلاف مزید انکوائری کے بعد محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔