آئل کمپنیوں کے دبائو پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر عوام مایوس

آئل کمپنیوں کے دبائو پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر عوام مایوس

فی لٹر قیمت میں 110 روپے سے زائد مختلف ٹیکسز، لیوی اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ،شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں کا حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے )عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی نہ ہونے پر شہریوں کی امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ مختلف حلقوں نے آئل کمپنیوں کا دباؤ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مزید ریلیف کا مطالبہ کیا ہے ۔عوام کو توقع تھی وزیراعظم کی منظوری کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی۔ بعض حکومتی وزرا نے بھی سوشل میڈیا پر قیمتوں میں ممکنہ کمی کا عندیہ دیا تھا۔ذرائع کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ عرصے میں قیمتوں میں کمی کے باعث انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ، جس کے باعث مزید کمی کے امکانات محدود ہو گئے۔

شہریوں کا کہنا ہے عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہونے کا فائدہ براہِ راست صارفین تک پہنچنا چاہیے ۔ماہرین کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 20 سے 25 فیصد کم ہوئی ہے ۔ایک لٹرپٹرول کی قیمت میں تقریباً 78 روپے پٹرولیم لیوی، 16 روپے کسٹمز ڈیوٹی، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپ مالکان کے تقریباً 8 روپے 64 پیسے فی لٹر مارجن سمیت انشورنس، سٹوریج اور دیگر اخراجات شامل ہیں، جس کے باعث فی لٹر قیمت میں 110 روپے سے زائد مختلف ٹیکسز، لیوی اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جاتے ہیں۔شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں