دکانداروں کی من مانی، غیر معیاری دودھ 200 روپے فی کلو
غیر معیاری اور پاؤڈر سے تیار کردہ دودھ استعمال سے شہریوں کو پریشانی
اٹھارہ ہزاری (نمائندہ دنیا )شہر اور گردونواح میں دودھ فروشوں کی مبینہ اجارہ داری کے باعث دودھ کی قیمتوں اور معیار سے متعلق شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دودھ فروشوں نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر رکھے ہیں جبکہ غیر معیاری اور پاؤڈر سے تیار کردہ دودھ 200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔گردونواح کے دیہاتوں سے دودھ خرید کر لانے والے بعض گوالوں اور ڈیری فارم مالکان پر الزام ہے کہ وہ دودھ سے کریم نکالنے کے بعد باقی ماندہ دودھ میں پاؤڈر اور دیگر اجزا شامل کرکے اسے خالص دودھ کے طور پر فروخت کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات دودھ میں ملاوٹ اس حد تک کی جاتی ہے کہ دودھ کے بجائے پانی میں دودھ اور پاؤڈر ملا کر سپلائی کیا جاتا ہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق متعدد دکاندار جانوروں کا خالص دودھ فروخت کرنے کے بجائے پاؤڈر سے تیار کردہ دودھ مختلف دکانوں تک پہنچا رہے ہیں، جسے بعد ازاں صارفین کو مکمل قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ انہیں مہنگے داموں غیر معیاری دودھ خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ کے معیار کی باقاعدہ جانچ کی جائے ، ملاوٹ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments