فیصل آباد کی فیکٹریوں میں مزدوروں کی زندگیاں خطرے میں، حفاظتی اقدامات نظر انداز

فیصل آباد کی فیکٹریوں میں مزدوروں کی زندگیاں خطرے میں، حفاظتی اقدامات نظر انداز

محکمہ لیبر اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مؤثر نگرانی نہ ہونے کی شکایات ،ماضی میں مختلف صنعتی حادثات کے دوران متعدد مزدور جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، حکام سے نوٹس کا مطالبہ

فیصل آباد (ذوالقرنین طاہر سے ) فیصل آباد کے صنعتی یونٹس میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور روزگار کے حصول کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔ شہر کے چھوٹے بڑے کارخانوں، فیکٹریوں، پاور لومز اور دیگر صنعتی یونٹس میں مبینہ طور پر بنیادی حفاظتی انتظامات کے بغیر خطرناک مشینوں پر کام لیا جا رہا ہے ، جبکہ محکمہ لیبر اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مؤثر نگرانی نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ماضی میں مختلف صنعتی حادثات کے دوران متعدد مزدور جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ کئی افراد مشینوں کی زد میں آ کر ہاتھ پاؤں سے محروم اور عمر بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔

اس کے باوجود صنعتی یونٹس میں حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔پنجاب آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2019 اور فیکٹریز ایکٹ 1934 کے تحت صنعتی اداروں میں محفوظ ماحول اور ضروری حفاظتی انتظامات کی فراہمی اہم قانونی تقاضے ہیں۔صورتحال کا ایک تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض مزدور روزگار ختم ہونے کے خوف سے غیر محفوظ حالات کے خلاف شکایت کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ شہری اور مزدور حلقے مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ لیبر صنعتی حادثات کا انتظار کرنے کے بجائے فیکٹریوں اور کارخانوں کے باقاعدہ معائنے یقینی بنائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...