کوڑا دان اور صفائی بل کا معاملہ ، تاجر سراپا احتجاج
صفائی اور تمام انتظامات خود کرنے ہیں تو بل کیوں دیں:تاجروں کا موقف
لالہ موسیٰ (نمائندہ دنیا )کوڑے دان اور صفائی بل کا مسئلہ، تاجر سراپا احتجاج بن گئے ۔لالہ موسیٰ مین بازار میں اعلان ہوا ہے کہ ہر دکان کے آگے سبز کوڑے دان رکھنا لازمی ہے ، اگر کسی دکان کے سامنے ڈسٹ بن نہ ہوئی یا کوڑا باہر پڑا ملا تو 5 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا،اعلان کے بعد تاجروں نے صفائی مہم میں تعاون کا اعلان تو کیا مگر ساتھ ہی ایک بنیادی سوال اٹھا دیا ،اگر ڈسٹ بن دکاندار خود خریدے ، صفائی خود کرے ، کوڑا حکومتی پوائنٹس تک خود پہنچائے تو پھر صفائی بل بھی دکاندار ہی ادا کرے ،تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ سیدھا ڈبل چارج ہے ، ایک طرف صفائی کا خرچ، مزدوری اور وقت دکاندار کا لگ رہا ہے ، دوسری طرف ماہانہ صفائی بل بھی وصول کیا جا رہا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر صفائی کی ذمہ داری مکمل طور پر دکاندار پر ڈال دی گئی ہے تو میونسپل کمیٹی کو صفائی بل معاف کرنا چاہیے جبکہ اگر میونسپل کمیٹی صفائی کرے گی تو دکاندار سے صرف یہ توقع رکھی جائے کہ وہ کوڑا ڈسٹ بن میں ڈالے اور سڑک پر گندگی نہ پھیلائے ،تاجر وں کا کہنا ہے کہ ہم صاف ستھرے لالہ موسیٰ کیلئے تیار ہیں لیکن بوجھ صرف ایک طرف نہ ڈالا جائے ،تاجروں کا کہناہے کہ معاملہ اب اسسٹنٹ کمشنر اور میونسپل کمیٹی کے پاس ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ تاجروں کے اس جائز سوال کا کیا جواب دیتی ہے ۔