گوجرانوالہ ڈویژن کے سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد میں اضافہ نہ ہوسکا

گوجرانوالہ ڈویژن کے سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد میں اضافہ نہ ہوسکا

ایمرجنسی اور وارڈز میں بیڈز پر 2سے 3مریضوں کو لٹانا معمول ، حکومتی احکامات کے باوجود بیڈز کی تعداد 8سال میں بڑھ نہ سکی،سینکڑوں مریض علاج معالجہ سے محروم ہونے لگے

گوجرانوالہ (سٹی رپورٹر)حکومتی دعوؤں کے باوجودگوجرانوالہ ڈویژن کے سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد میں اضافہ نہ ہوسکا ،ایمرجنسی اور مختلف وارڈز میں بیڈز پر دوسے 3 مریضوں کو لٹانا معمول بن گیا، حکومتی احکامات کے باوجود بیڈز کی تعداد گزشتہ 8 سال میں بڑھ نہ سکی، سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز کی کمی کے باعث مریض خوار ہونے لگے تاہم گوندلانوالہ میں نیا ٹیچنگ ہسپتال فعال تو ہوگیا لیکن اندرون شہر سرکاری ہسپتال میں مریضوں کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ ذرائع کے مطابق گوجرانوالہ کی آبادی 60 لاکھ سے تجاوز کرچکی ،شہر کے واحد ڈی ایچ کیوہسپتال میں صرف 700 بیڈز موجود ہے جہاں روزانہ ایمرجنسی سنٹر اور ان ڈور میں 4سے 6 ہزار مریض آتے ہیں بیڈز کی کمی کے باعث ایک بیڈ پر دو مریضوں کو لٹانا معمول بن گیا جس پر حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے تمام ہسپتالوں میں بیڈز کی کمی کو دور کرنے کے احکامات جاری کئے تھے لیکن احکامات پر عملدر آمد نہ ہوسکا جس کے با عث سینکڑوں مریض علاج معالجہ سے محروم ہورہے ہیں ۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں