سیالکوٹ: اوپن مارکیٹوں میں گراں فروشی عروج پر
دکاندار سرکاری نرخ نامے کے بجائے من مانے داموں سبزیاں اور پھل فروخت کرنے لگے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ،فوری نوٹس لینے کامطالبہ
سیالکوٹ (نمائندہ دنیا) سیالکوٹ اور گردونواح میں انتظامیہ کے دعوؤں کے برعکس اوپن مارکیٹوں میں گراں فروشی عروج پر رہی۔ دکاندار سرکاری نرخ نامے کے بجائے من مانے داموں سبزیاں اور پھل فروخت کرتے رہے ، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں آلو 30 سے 60 روپے فی کلو، تھائی لینڈ کا ادرک 370 روپے کے بجائے 520 روپے ، چینی ادرک 335 کے بجائے 400 روپے ، بینگن 80 کے بجائے 120 روپے ، بند گوبھی 150 کے بجائے 200 روپے ، بھنڈی 160 کے بجائے 220 روپے ، پیاز 190 کے بجائے 230 سے 240 روپے ، فارمی پالک 60 روپے ، پھول گوبھی 150 کے بجائے 200 روپے ، موٹی پھلیاں 120 کے بجائے 180 سے 200 روپے ، درجہ اول کے ٹماٹر 140 کے بجائے 180 روپے ، درجہ دوم کے ٹماٹر 110 کے بجائے 140 روپے ، دیسی ٹینڈے 200 کے بجائے 250 روپے اور مٹر 350 کے بجائے 450 روپے فی کلو فروخت ہوتے رہے ۔اسی طرح چونسہ آم 355 کے بجائے 420 روپے ، پپیتا 300 کے بجائے 400 روپے ، سیب 380 کے بجائے 420 روپے فی کلو، کیلے 150 روپے درجن، کالے انگور 1200 روپے اور انگور 1100 روپے فی کلو فروخت کیے جاتے رہے ۔شہریوں نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حکومت روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف مل سکے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب ، کمشنر گوجرانوالہ اور متعلقہ ادارے فوری نوٹس لیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments