چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کاحکم کالعدم

چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کاحکم کالعدم

جائیداد متروکہ وقف املاک قرار دینے کے خلاف دائر درخواست منظور متاثرہ فریق کو سنے بغیر جائیداد وقف پراپرٹی قرار دینا غیرقانونی ،ہائیکورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے نشتر روڈ پر واقع ایک جائیداد کو متروکہ وقف املاک قرار دینے کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے 2001 کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی متاثرہ فریق کو سنے بغیر جائیداد کو متروکہ وقف پراپرٹی قرار دینا قانون کے منافی ہے ۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ جائیداد 1959 میں خریدی گئی تھی۔ جائیداد کے مالک کے انتقال کے بعد یہ جائیداد قانونی طور پر ورثا کو منتقل ہوئی اور ورثا کے پاس لیٹر آف ایڈمنسٹریشن بھی موجود ہے تاہم متعلقہ حکام زمین کے انتقال سے انکار کر رہے ہیں۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین متروکہ املاک بورڈ نے 2001 میں متاثرہ فریق کو سنے بغیر احکامات جاری کیے تھے ۔ دوران سماعت سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2001 کے احکامات کو 22 برس بعد چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ چیئرمین متروکہ املاک بورڈ کو جائیداد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے ، لیکن کسی بھی ایسے فیصلے سے قبل متاثرہ شخص کو سنا جانا قانونی تقاضا ہے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متروکہ وقف املاک ایکٹ کے تحت جائیدادوں کے تعین کے لیے یکم جنوری 1957 کی تاریخ مقرر تھی، جبکہ درخواست گزار کی جائیداد کے بارے میں فیصلہ 2001 میں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر جاری کیا گیا حکم قانون کے مطابق برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں