شہر قائد کے گمبھیر مسائل پرمقامی ہوٹل میں ڈائیلاگ
کراچی میں جوبھی ترقی ہوئی، وہ ایم کیوایم کی مرہونِ منت ہے ، خالد مقبولکراچی کوٹھیکے پر چلانے کی کوشش ہورہی ہے ، جاوید حنیف ودیگر کا خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیرِ اہتمام شہرِ قائد کے ایک مقامی ہوٹل میں دی ڈائیلاگ کراچی کے عنوان سے ایک پروقار اور فکر انگیز تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے معاشی مرکز کراچی کے دیرینہ اور گمبھیر مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، تقریب میں ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خصوصی خطاب کیا، جبکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین، سینئر صحافیوں، سابق بیوروکریٹس اور ماہرینِ معیشت نے شہر کی حالتِ زار، مقامی حکومت کے نظام، معاشی صورتحال، تعلیم و صحت کی زبوں حالی اور زمینوں کی ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم امور پر سیر حاصل گفتگو کی، ڈاکٹر خالد مقبول نے خطاب میں شہر کی سیاسی و سماجی تاریخ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایم کیو ایم کے قیام سے پہلے شہر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں؟ سچ تو یہ ہے کہ کراچی میں آج جو کچھ بھی ترقی نظر آتی ہے وہ ایم کیو ایم ہی کی مرہونِ منت ہے ، ہمارے بزرگ جناح کے پاکستان میں آئے تھے لیکن ہمیں بھٹو کے پاکستان میں دھکیل دیا گیا، انہوں نے یاد دلایا کہ کراچی بلکہ پاکستان کا پہلا ماس ٹرانزٹ نظام ایم کیو ایم کے دورِ نظامت میں پاس ہوا تھا، ایم کیو ایم نے شہر میں 40 ارب روپے کی لاگت سے آئی ٹی پارک قائم کیا جس کے بینرز تک سیاسی تعصب کی بنیاد پر اتروا دیئے گئے ، حالیہ مردم شماری میں 75 لاکھ غائب افراد کو مردم شماری کے ریکارڈ پر لانے کا سہرا بھی ایم کیو ایم کے سر ہے ، انہوں نے کہا کہ حکیم سعید اور امجد صابری کے قتل سے لے کر بلدیہ فیکٹری سانحے اور اسلحہ برآمدگی تک کوئی بھی الزام عدالتوں میں ایم کیو ایم پر ثابت نہیں ہو سکا مگر آواز اٹھانے کی پاداش میں صرف ایم کیو ایم نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کراچی کی موجودہ حالتِ زار کو ملک کے لئے بڑا المیہ قرار دیا، ایم کیو ایم کے رہنما جاوید حنیف نے کہا کہ کراچی کو چلانے والوں کا تعلق اس شہر سے نہیں بلکہ اسے دقیانوسی طریقوں سے ایک ٹھیکے کے طور پر چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، مسائل کا حل موجود ہے مگر نیت کا شدید فقدان ہے ، لاڑکانہ میں بیٹھے لوگ اس شہر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے ۔حق پرست رکن قومی اسمبلی صبحین غوری نے کہا کہ کراچی ہر رنگ، نسل اور مذہب کے فرد کا مسکن ہے مگر یہاں مسائل کا انبار اب تشویشناک ہوچکا ہے ۔ سابق گورنر سندھ معین الدین حیدر کا کہنا تھا کہ کراچی کی آبادی میں مسلسل اضافہ اور اربنائزیشن کے باوجود سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے لاہور کی آبادی کو اس کے برابر لا کھڑا کیا گیا ہے ، جعلی ڈگریوں اور ڈومیسائل کے ذریعے یہاں کے نوجوانوں کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بشیر نے استنبول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تمام اضلاع کے سربراہان منتخب ہوتے ہیں اور ماسٹر پلان اتھارٹی شہر کے اپنے پاس ہوتی ہے نہ کہ صوبے کے پاس۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کراچی کی بقا اور ترقی مقامی قیادت کو مالیاتی و انتظامی طور پر بااختیار بنانے آرٹیکل 140-اے کے حقیقی نفاذ اور نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل سے ہی ممکن ہے ۔