ایکسائز پولیس افسران کیخلاف مقدمہ درج کرنے کاحکم
مجموعی طور پر 90ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے اور تنخواہیں روکنے کی ہدایت مجسٹریٹ نے چھاپے کے دوران تین افراد کو غیرقانونی حراست سے بازیاب کرایا تھا
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی نے ایکسائز پولیس اسٹیشن پر مجسٹریٹ کے چھاپے کے دوران دو خواتین سمیت تین افراد کی مبینہ غیرقانونی حراست سے بازیابی اور عدالتی کارروائی میں مزاحمت کے معاملے پر متعلقہ افسران اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ تین افسران ممتاز علی میرانی، انسپکٹر غلام مصطفیٰ اور کانسٹیبل ارشد رحیم کو مجموعی طور پر 90 ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے اور ان کی تنخواہیں روکنے کی بھی ہدایت کردی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریڈ کمشنر کی رپورٹ کے مطابق حبس بے جا میں رکھے گئے تینوں افراد کی گرفتاری یا حراست سے متعلق روزنامچہ، ایف آئی آر، گرفتاری میمو یا کوئی دوسرا قانونی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق حبس بے جا کی درخواست مسماۃ شازیہ نے دائر کی تھی۔ عدالت نے معاملے کی جانچ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کو متعلقہ ایکسائز پولیس اسٹیشن پر ریڈ کرنے اور ضروری کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ ریڈ کمشنر کی رپورٹ کے مطابق عدالتی حکم پر کارروائی کے دوران مسماۃ شازیہ کو ایکسائز پولیس اسٹیشن کے احاطے میں واقع ایک متروک اور بند کمرے سے برآمد کیا گیا۔ اسی مقام پر مسماۃ شمیم زوجہ شفا اللہ بھی حراست میں موجود پائی گئی، جس نے بتایا کہ اس کا بھائی بشیر ولد محمد رمضان بھی اسی احاطے کے ایک دوسرے کمرے میں موجود ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments