عمارت خالی کرانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

عمارت خالی کرانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

عمارت خطرناک قرار دی جاچکی ہے ، اسے خالی تو کرنا پڑے گا،عدالتدرخواست گزاروں کے جذبات عدالتی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوسکتے ،ریمارکس

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے آرام باغ میں ثقافتی ورثہ قرار دی گئی تین منزلہ عمارت کو خطرناک قرار دے کر سیل کرنے اور مکینوں سے عمارت خالی کرانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عمارت خطرناک قرار دی جاچکی ہے ، اسے خالی تو کرنا پڑے گا۔ سندھ ہائیکورٹ میں آرام باغ کی مذکورہ عمارت کے مکینوں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مکینوں کے پاس رہائش کا کوئی متبادل انتظام موجود نہیں، حکومت اگر عمارت خالی کروانا چاہتی ہے تو متاثرہ مکینوں کو معاوضہ دیا جائے۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ایس بی سی اے کی جانب سے عمارت کو سیل کیا گیا تھا، تاہم مکینوں نے سیل توڑ کر دوبارہ عمارت میں رہائش اختیار کرلی ہے ۔ درخواست گزار تسنیم ناز نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس کوئی متبادل رہائش نہیں، مکین کہاں جائیں۔ ایس بی سی اے کے وکیل قاضی امان اللہ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آرام باغ میں واقع تین منزلہ عمارت کو پہلے ہی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے اور ایس بی سی اے نے خطرناک قرار دے کر عمارت کو سیل کیا تھا۔عدالت نے درخواست گزاروں کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون کے مطابق چلتی ہے ، درخواست گزاروں کے جذبات عدالت کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوسکتے ۔ اگر مکین خطرناک قرار دی گئی عمارت میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں حلف نامہ دینا ہوگا کہ عمارت میں رہائش کے دوران کسی نقصان کی صورت میں وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...