ڈرینز،نالوں کی ٹوٹی دیواریں:مون سون کے دوران شہر میں سیلاب کا خطرہ
کھاڑک اور کینٹ ڈرین کے مختلف حصے متاثر ،مقامات میں دبئی چوک برج، واپڈا گرڈ سے ملتان روڈ ڈسپوزل، فردوس کالونی، گلشن راوی بلاک اور شیراکوٹ قبرستان شامل عائشہ مسجد پلی سے بلال پلی، چوکی والی پلی سے عائشہ مسجد اور 80 فٹ روڈ پلی سے واپڈا گرڈ سٹیشن کے مقامات ٹوٹ پھوٹ کاشکار،15روز میں ڈرینز کی بحالی مکمل ہو گی:انتظامیہ
لاہور (شیخ زین العابدین)مون سون کے دوران ٹوٹنے والے کئی نالوں کی مرمت تاحال مکمل نہیں کی جا سکی، جس کے باعث اس بار بھی شہری علاقوں میں پانی کھڑا ہونے اور اربن فلڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ خاص طور پر کھاڑک ڈرین اور کینٹ ڈرین کے مختلف حصے بدستور متاثر ہیں۔ متاثرہ مقامات میں دبئی چوک برج، واپڈا گرڈ سے ملتان روڈ ڈسپوزل، فردوس کالونی، گلشن راوی بلاک، راوی سلج کیریئر اور شیراکوٹ قبرستان شامل ہیں، جہاں ڈرینز کی دیواریں کمزور یا مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں۔ اسی طرح ڈی بلاک ڈسپوزل، مسرت گرلز ہائی سکول، گنجے پل اور مصطفی پارک سے 80فٹ روڈ تک بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ کھاڑک ڈرین کے مختلف حصوں میں ملتان روڈ ڈسپوزل سے کینٹ ڈرین تک دونوں اطراف نقصان دیکھا گیا ہے ، جبکہ عائشہ مسجد پلی سے بلال ٹینٹ پلی، چوکی والی پلی سے عائشہ مسجد اور 80فٹ روڈ پلی سے واپڈا گرڈ سٹیشن تک کے مقامات بھی متاثر ہیں۔ لیاقت ٹوکے والی پلی، رستم پارک، شمع برج سے چوہدری کالونی اور بابو صابو کے علاقے بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ مون سون کے دوران پانی کے دباؤ میں اضافہ ان کمزور ڈھانچوں کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے ، جس سے نہ صرف نکاسی آب کا نظام متاثر ہوگا بلکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب واسا انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ٹوٹی ہوئی ریٹننگ والز کی مرمت کا آغاز کر دیا گیا ہے اور آئندہ پندرہ روز میں تمام متاثرہ ڈرینز کی بحالی مکمل کر لی جائے گی، تاکہ بارشوں کے دوران کسی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے ۔