قومی پیداوار کا کم از کم چار فیصد تعلیم کیلئے مختص کیا جائے :آسا
160 سے زائد سرکاری جامعات اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار :صدر امجدمگسی
لاہور(خبر نگار)پنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (آسا) کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر امجد عباس خان مگسی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی پیداوار کا کم از کم چار فیصد تعلیم، بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے مختص کیا جائے تاکہ جامعات کو درپیش سنگین مالی بحران کا مؤثر تدارک ممکن ہو سکے ۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی 160 سے زائد سرکاری جامعات اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور مناسب فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی ترقی کے میدان میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے جامعات کے لیے ریکرنگ گرانٹ 66 ارب روپے پر منجمد ہے ، جبکہ اس عرصے میں یونیورسٹیوں کی تعداد، طلبہ کے اندراج، انتظامی اخراجات اور تحقیقی ضروریات میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس صورتحال میں موجودہ فنڈز نہایت ناکافی ہیں، لہٰذا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص فنڈز میں کم از کم دوگنا اضافہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر مگسی نے یونیورسٹی اساتذہ اور محققین کے لیے ٹیکس ریبیٹ کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علمی و تحقیقی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور تحقیقی ماحول کے فروغ کے لیے یہ سہولت ناگزیر ہے ۔