پی کے ایل آئی : 24 گھنٹوں میں 10 لیور ٹرانسپلانٹس مکمل

پی کے ایل آئی : 24 گھنٹوں میں 10 لیور ٹرانسپلانٹس مکمل

آپریشن میں طبی ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ تربیت یافتہ کثیر الشعبہ ٹیم نے حصہ لیا

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے )پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر نے ٹرانسپلانٹ میڈیسن کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ایسا منفرد طبی کارنامہ انجام دیا ہے جس نے اعضا کے مؤثر استعمال اور نایاب موروثی و میٹابولک بیماریوں کے علاج میں نئی راہیں کھول دی ہیں۔جراحی مہارت، طبی جدت اور مؤثر ٹیم ورک کی ایک بے مثال مثال قائم کرتے ہوئے پی کے ایل آئی اینڈ آر سی نے صرف 24 گھنٹوں کے دوران 10 لیور ٹرانسپلانٹس کامیابی سے مکمل کیے ، جن میں 7 ڈومینو لیور ٹرانسپلانٹس اور 8 آکزیلری پارشل آرتھو ٹاپک لیور ٹرانسپلانٹس شامل ہیں۔ اس جدید اور منفرد ٹرانسپلانٹ حکمتِ عملی کے ذریعے صرف 3 ڈونرز کے عطیہ کردہ اعضا سے 9 بچوں اور 1 بالغ مریض کو نئی زندگی فراہم کی گئی، جو محدود ڈونر اعضا کے زیادہ سے زیادہ اور مؤثر استعمال کی ایک شاندار مثال ہے ۔ اس تاریخی اقدام کی قیادت پروفیسر فیصل سعود ڈار، ڈین پی کے ایل آئی اینڈ آر سی نے کی، جبکہ اس میں ٹرانسپلانٹ سرجنز، ہیپاٹولوجسٹس، ماہر اطفال، اینستھیٹسٹس، انٹینسوِسٹ، نرسز، ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیٹرز اور دیگر طبی ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ تربیت یافتہ کثیر الشعبہ ٹیم نے حصہ لیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تمام مریض صحت یاب ہو کر ہسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔

اس تاریخی پروگرام میں دنیا کی دو انتہائی جدید اور پیچیدہ ٹرانسپلانٹ تکنیکوں کو ایک مربوط طبی منصوبے کے تحت کامیابی سے یکجا کیا گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں