محفوظ عمارات کی لسٹ میں شامل ہزاروں سالہ قدیم سورج کنڈ مندر کھنڈر

محفوظ عمارات کی لسٹ میں شامل ہزاروں سالہ قدیم سورج کنڈ مندر کھنڈر

بستی سورج کنڈ کے مکینوں نے تاریخی ورثہ کا نام و نشان مٹا کر گھر تعمیر کر دئیے ، مذہبی اہمیت کا حامل تالاب جوہڑ بن گیا

ملتان(رپورٹ:شفقت بھٹہ) محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ’’محفوظ عمارات‘‘ کی لسٹ میں شامل ہزاروں سالہ قدیم سورج کنڈ مندر محفوظ نہ رہ سکا، پرانا شجاع آباد روڈ کے قریب واقع بستی سورج کنڈ کے مکینوں نے تاریخی ورثہ کا نام و نشان مٹا کر گھر تعمیر کر دئیے ۔ محکمہ آثار قدیمہ لاعلم، مندر کے قریب واقع مذہبی اہمیت کا حامل تالاب جوہڑ بن گیا۔ زمانہ قبل مسیح میں تعمیر کی جانے والی جنوبی ایشیا کی یہ اہم عبادت گاہ سورج کنڈ مندر ہندوئوں کے مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔ ملتان کے جنوب میں چوک عزیز ہوٹل سے 5کلومیٹر کی مسافت پر پرانا شجاع آباد روڈ پر واقع ہزاروں سال قبل مسیح کی تاریخ کا حامل سورج کنڈ مندر محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت کی وجہ سے اب مکمل طور پر منہدم ہو چکا ہے ، محکمہ محفوظ عمارات کی لسٹ میں شامل کرنے کے باوجود مندر کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا۔ واضح رہے کہ سورج کند مندر زمانہ قبل مسیح سے 1947ء تک ہندوئوں کے لئے انتہائی مقدس مقام رہا ہے ، ہندوستان بھر کے ہندو یہاں آکر عبادت کرتے اور سونا، جواہرات نچھاور کرتے رہے جس کی وجہ سے اس مندر کو سونے کا گھر بھی کہا جاتا رہا۔ قیام پاکستان سے قبل ہزاروں سال تک سورج کند مندر ملتان کی پہچان بنا رہا اسی بناء پر ہندو ملتان کو اپنا مرکز مانتے رہے ۔ مندر کے قریب واقع تالاب بھی ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھتا ہے جسے جوہڑ بنادیاگیا ہے ۔ 1985ء میں محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے مندر کو محفوظ عمارات کی لسٹ میں شامل کیا گیا اور یوں محفوظ عمارات پر مشتمل جنوبی پنجاب کے 88تاریخی مقامات کی لسٹ میں سورج کنڈ مندر بھی شامل ہے مگر اس کے باوجود محکمہ اس کی حفاظت نہ کر سکا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں