سیلاب متاثرہ سکولوں کی تعمیر نو کا کام ادھورا
443سکولوں کی عمارتیں شدید متاثر، شدید موسم کے دوران عارضی سکولوں میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا ناممکن،طلبہ کی تعلیم کا ہرج ہونے لگا ،محکمہ تعلیم خاموش تماشائی حکومت نے تعمیر نو کیلئے 40ارب جاری کردیئے ، 7ہزار سکولوں میں 31ہزار کلاس رومز تعمیر کئے ، جنوبی پنجاب کے اداروں میں تعمیر نو جلد مکمل کرلینگے ،حکام
ملتان (جام بابر سے )دریائے چناب کے سیلاب سے جنوبی پنجاب کے چار سو تتالیس سکول متاثر ہوئے جن میں سے بیشتر کی تعمیر نو کا کام تاحال مکمل نہیں ہو سکا یہی وجہ ہے کہ والدین کی جانب سے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے اراستہ کرنے کا خواب بھی چکنا چور ہو رہا ہے اورجس کی وجہ سے سیلاب زدہ سکولوں کے حوالے سے زیر تعلیم طلبا کی مشکلات برقرار ہیں جنوبی پنجاب میں دریائے چناب کے سیلاب نے خوفناک حد تک دیگر املاک کو تباہ کیاتھا وہیں پر چار سو تتالیس سرکاری سکولوں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا سلاب کے بعد جہاں پر وزیراعلی پنجاب کی جانب سے چند عارضی سکول تو قائم کئے تھے اور وہاں پر بچوں کو تعلیم بھی دی جا رہی تھی تاہم تا ہم شدید سردی کے باعث ان عارضی سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا بچوں کے لئے بہت مشکل ہو گیا ہے اور موسم سرما کی تعطیلات کے بعد موجودہ صورتحال میں تعلیمی ادارے کھلنے کے باوجود سکولوں کی تعمیر نو کا کام تاحال جاری ہے۔
جس سے طلبا کی تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں والدین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے ان کی املاک جانور اور فصلات و تباہ ہو گئی تھیں جب کہ وہاں پر موجود سرکاری سکولوں کو بھی نقصان پہنچا تھا جس پر حکومت پنجاب اور محکمہ تعلیم کی جانب سے سیلاب کی زد میں آنیوالے سکولوں کی تعمیر نو اور مرمت کے بارے میں احکامات جاری کئے تھے لیکن ان سکولوں میں سے بیشتر سکولوں پر کام تاحال مکمل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے اراستہ کرنے سے قاصر ہیں اور معصوم بچے بھی سکول نہ ہونے کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن کے حکام کا موقف ہے کہ حکومت نے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سہولیات کے فقدان کو دور کرنے اور تعمیر نو کیلئے چالیس ارب روپے کا فنڈ جاری کر دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں سات ہزارتیتیس سکولوں میں اکتیس ہزار نئے کمرے بنائے گئے ہیں تاہم جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ سکولوں کی تعمیر نو اور مرمت کا کام بھی جلد مکمل کر لیں گے ۔