زرعی کیڑوں کیخلاف اے آئی سمارٹ ٹریپ منصوبہ
ممکنہ ہاٹ اسپاٹس اور بروقت کنٹرول کے اقدامات ممکن،ڈاکٹر آصف ، عائشہ حکیم
ملتان (خصوصی رپورٹر)زرعی یونیورسٹی ملتان میں پھل کی مکھی، گلابی سنڈی سمیت اہم زرعی کیڑوں کی بروقت شناخت، مؤثر نگرانی اور فصلوں کو ممکنہ نقصان سے بچانے کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی سمارٹ ٹریپ اور ارلی وارننگ سسٹم کے قیام کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہوا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا جدید زراعت میں کیڑوں کے حملے کے بعد تدارک کے بجائے پیشگی نگرانی اور بروقت فیصلہ سازی ضروری ہے ۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو زرعی تحقیق اور فیلڈ مانیٹرنگ سے منسلک کرکے کیڑوں کی سرگرمی کا بروقت اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ حکیم نے اے آئی پر مبنی سمارٹ ٹریپ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی سے کیڑوں کی موجودگی اور سرگرمی مسلسل مانیٹر کی جاسکتی ہے ، جبکہ ڈیٹا کی مدد سے آبادی میں اضافے ، ممکنہ ہاٹ اسپاٹس اور بروقت کنٹرول اقدامات کی نشاندہی ممکن ہوگی۔ ڈی جی پیسٹ وارننگ پنجاب غلام رسول نے کہا سمارٹ ٹریپ ٹیکنالوجی سے کیڑوں کی آبادی میں اضافے کی پیشگی نشاندہی ہوسکتی ہے ۔ ماہرین نے کہا ڈیٹا پر مبنی نگرانی سے غیر ضروری زرعی ادویات کے استعمال، پیداواری اخراجات اور ماحولیاتی دباؤ میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔ اجلاس میں یونیورسٹی، تحقیقاتی اداروں، محکمہ زراعت اور نجی شعبے کے تعاون سے جدید نظام کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments