ضلعی ہسپتال وہاڑی میں سزا و جزا کے دوہرے معیار پر سوالات
طالبعلم کا داخلہ خارج، ڈاکٹر کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر شہریوں کا احتجاج
وہاڑی (خبرنگار)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وہاڑی میں ڈسپلن کی خلاف ورزی اور فرائض میں غفلت کے معاملے پر مبینہ دوہرے معیار کے خلاف شہریوں نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو بنانے کے معاملے میں ایک طالب علم کا داخلہ خارج کردیا گیا، جبکہ اسی نوعیت کے ایک واقعے میں ڈاکٹر کے خلاف کوئی محکمانہ کارروائی سامنے نہیں آئی۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی احمد فراز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سیشن 2024-26 کے ڈسپنسر کلاس کے طالب علم محمد اسنان کو فوری طور پر کلاس سے خارج کردیا گیا ہے ۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ طالب علم دورانِ ڈیوٹی ہسپتال کی حدود میں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا، جو بدسلوکی اور فرائض سے عدم دلچسپی کے زمرے میں آتا ہے ۔
اس اقدام کی نقل ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر اور کلاس انچارج کو بھی ارسال کی گئی ہے ۔دوسری جانب چند روز قبل ڈاکٹر احمد مصطفیٰ گجر کی مبینہ عدم موجودگی پر ایک پریس فوٹوگرافر نے ان کی خالی کرسی کی ویڈیو بنائی تھی۔ الزام ہے کہ ڈاکٹر نے ایک مریض کے ذریعے فوٹوگرافر کو بلوایا اور اسے گرفتار کروا دیا۔ فوٹوگرافر کی گرفتاری کے دوران ڈاکٹر نے خود ویڈیو بھی بنائی اور کمنٹری کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صحافی کو کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں لے جارہی ہے ۔ خبر کے مطابق اس وقت تک ڈاکٹر کی جانب سے کوئی تحریری درخواست بھی نہیں دی گئی تھی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کی جانب سے دورانِ ڈیوٹی ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر جاری کرنے کے معاملے پر ایم ایس، چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ، ڈی جی ہیلتھ اور سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی، جبکہ طالب علم کو ویڈیو بنانے پر داخلے سے محروم کردیا گیا۔ شہریوں نے کمشنر ملتان، ڈی جی ہیلتھ اور وزیراعلیٰ پنجاب سے معاملے کا نوٹس لے کر شفاف انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments