زرعی اجناس کی پیدوار کے تقابلی جائزہ کی رپورٹ تاخیر کا شکار
کاغذی کاروائیوں کے ذریعے سرکاری ریکارڈ کا پیٹ بھرا جا رہا ہے حکومتی پروگرام پر موثر عملدرآمد کے احکامات روایتی چشم پوشی کی نظر ہو کررہ گئے
سرگودھا(نعیم فیصل سے ) وفاقی شماریاتی ادارے کی جانب سے زرعی اجناس کی پیدوار کے حالیہ تین سالہ تقابلی جائزہ کی رپورٹ میں دیکھ بھال،سٹوریج اور ٹرانسپوٹیشن کے روایتی مسائل کو ان کے ضیاع کی اصل وجوہات قرار دیتے ہوئے مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کے حوالے سے ضلعی حکومتوں کو بھجوائی گئی سفارشات پر عملدرآمد 2سال سے التواء کا شکار ہے ، کاغذی کاروائیوں کے ذریعے سرکاری ریکارڈ کا پیٹ بھرا جا رہا ہے ،جبکہ کاشتکاروں کو فصلوں کی دیکھ بھال سے لے کر منڈیوں تک ان کی ترسیل میں آسانیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فصلوں کے ضیاع کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات کا فقدان مشکلات میں مسلسل اضافہ کا سبب بنتا جا رہا ہے ،ذرائع کے مطابق سرگودھا ریجن میں چاول،گندم، مکئی، مونگ،سٹرس اور آم اور دیگر زرعی اجناس کی سالانہ پیدوار کی نامناسب دیکھ بھال، ان کی سٹوریج کے انتظامات اور منڈیوں تک رسائی میں درپیش مسائل کے باعث ان کے ضیاع کی شرح کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی پروگرام پر موثر عملدرآمد کے جاری احکامات روایتی چشم پوشی کی نظر ہو کررہ گئے ہیں۔
جس کی وجہ سے جہاں کاشتکارو ں کو اجناس کی منڈیوں تک ترسیل میں نقصان کا سامنا ہے ،وہاں رہی سہی کسر کولڈ سٹوریج مالکان اور ایجنٹ مافیا پوری کر کے کاشتکاروں کی حق تلفی کر رہا ہے ، باعث تشویش امر یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ ضلعی حکومتوں کو اشیائے خورونوش کی سپلائی چین بہتر رکھنے پر بھی واضح گائیڈ لائن جاری کیں مگر ان پر عملدرآمد میں یہی مافیا رکاوٹ بن رہا ہے ، کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ بد انتظامی کے باعث کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ، جس کی وجہ سے زرعی اجناس کی پیدوار کے اہداف کی تکمیل مشکل ہوتی جا رہی ہے اور کمی کی شرح میں مزید اضافہ نظر آ رہا ہے ،جو کہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے وزیر اعلی مریم نواز شریف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔