بھٹہ مزدوروں کے مسائل، مقررہ تنخواہ سے بھی محروم
بھٹہ مزدوروں کے مسائل، مقررہ تنخواہ سے بھی محروم مزدوروں کی فلاح و بہبود اور مالی معاونت کیلئے شروع کیے گئے منصوبے پرعملدرآمد نہیں ہو سکا
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کاغذی کارروائی کے ذریعے اعلیٰ حکام کو مطمئن کرنے کی کوششوں کے باوجود بھٹہ مزدوروں کو مقررہ اجرت کی ادائیگی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، جبکہ ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کا منصوبہ بھی عملی طور پر ریکارڈ تک محدود ہے ۔ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے بھٹہ مزدوروں کی فلاح و بہبود اور مالی معاونت کے لیے شروع کیے گئے منصوبے پر خاطر خواہ عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ بھٹہ خشت لٹریسی سنٹرز کی اکثریت غیر فعال ہے ، جبکہ مالی امداد صرف ایک مرتبہ جاری کی گئی، جس کے بعد مزید فنڈز کی فراہمی تاحال نہ ہو سکی۔بتایا گیا ہے کہ دو سو سے زائد بھٹہ مزدور، مرد و خواتین، مالی امداد کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث مایوس ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب مقررہ اجرت کی عدم ادائیگی کے باعث مزدوروں کا استحصال جاری ہے ۔لیبر ڈیپارٹمنٹ حکام کے مطابق شکایات کے علاوہ بھی چیکنگ کی جاتی ہے اور حالیہ سہ ماہی میں اڑھائی سو سے زائد انسپکشنز کیے گئے ، جن کے دوران قواعد کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور مقدمات بھی درج کیے گئے ۔تاہم ذرائع کے مطابق لیبر ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیاں اور سرکاری دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ ضلعی ویجی لینس کمیٹی کی کارکردگی بھی متاثر کن نہیں، جہاں ہر اجلاس میں ایک جیسے اعداد و شمار پیش کر کے محض ہدایات جاری کی جاتی ہیں، جن پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔بھٹہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ بدستور مشکلات کا شکار ہیں اور حکومت کے بلند و بانگ دعوے عملی شکل اختیار نہیں کر سکے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔