سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی قلت ، مریضوں کو شدید مشکلات
سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی قلت ، مریضوں کو شدید مشکلات کوالیفائیڈ ٹیکنیشنز کی کمی کے باعث لیبارٹری میں نان ٹیکنیکل سٹاف رکھنالمحہ فکریہ
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) سرگودھا سمیت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی قلت کی وجہ سے دور دراز سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ حکومت وقت کا اس طرف توجہ نہ دینا لمحہ فکریہ ہے ۔ پی ایم اے سرگودھا کے صدر ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ’ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فواد حسین اور پرائیویٹ ہسپتال ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر غلام حسین فیضی’ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد آصف چوہدری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کئی سالوں سے سرگودھا سمیت پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزلیڈی ڈاکٹرز ٹیکنکل اور نان ٹیکنیکل عملے کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے ٹیکنیشنز کی عدم موجودگی کے باعث غیر تربیت یافتہ افرادکام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آنے والے مریضوں اور لواحقین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت میں گزشتہ کئی سالوں سے ٹیکنیشنز’ نائب قاصد اور وارڈ سرونٹس سمیت دیگر ملازمین کی بھرتی نہ کی ہے۔ مگر مریضوں کا بوجھ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ کوالیفائیڈ ٹیکنیشنز کی کمی کے باعث لیبارٹری’ ایکسرے اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس شعبوں میں نان ٹیکنیکل سٹاف کا کام سرانجام دینا لمحہ فکریہ ہے ۔ ان رہنماؤں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر تربیت یافتہ عملے کی بجائے متعلقہ خالی آسامیوں کے مطابق عملہ بھرتی کیا جائے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے واقعات پر قابو پایا جا سکے ۔ لہذا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ صحت میں فوری طور پر بھرتیوں کا سلسلہ جاری کیا جائے ۔