22یونین کونسلوں میں22فلٹریشن پلانٹس کئی ماہ سے بند

22یونین کونسلوں میں22فلٹریشن پلانٹس  کئی  ماہ  سے بند

بیشتر فلٹریشن پلانٹس بدستور زبوں حالی کی تصویر ،تمام فلٹریشن پلانٹس کی ٹوٹیاں غائب، سامان آلود ہو کرناکارہ ہو چکا ،اکثر کے بجلی کے تھری فیز میٹر لٹکے ہوئے ہیں دوفلٹریشن پلانٹس چالو کر کے غیر معمولی تشہیر کی گئی مگر اس کے بعد کچھ نہیں ہو سکا، شہری دوردراز علاقوں سے پانی بھر کر لانے یا خرید کر استعمال کرنے پر مجبور

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے عرصہ سے بند واٹر فلٹریشن پلانٹس چالو کروانے کے بھرپور دعوؤں کے برعکس شہر کے بیشتر فلٹریشن پلانٹس بدستور زبوں حالی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ، اور بد انتظامی قومی وسائل کے ضیاع کا سبب بنی ہوئی ہے ،ان فلٹریشن پلانٹس کی بندش سے شہریوں کو پینے کے پانی کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، شہر کی 22 یونین کونسلوں میں لگائے جانے والے 22 فلٹریشن پلانٹس میں سے انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث لگ بھگ31 ماہ سے بند پڑے ہیں، لگ بھگ تمام فلٹریشن پلانٹس کی ٹوٹیاں غائب ہیں، ٹینک زنگ اور فلٹرز سمیت دیگر سامان آلود ہو کرناکارہ ہو چکا ہے ،اکثر فلٹریشن پلانٹس کے بجلی کے تھری فیز میٹر لٹکے ہوئے ہیں تقریباً تین ماہ قبل ان فلٹریشن پلانٹس کو چالو کروانے کے حوالے سے بلند و بانگ اعلانات کئے گئے تھے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس پہلے پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ان فلٹریشن پلانٹس کو مستقل چالو کرنے کا پروگرام شروع کیا جا چکا ہے جس کے تحت دوفلٹریشن پلانٹس چالو کر کے غیر معمولی تشہیر کی گئی مگر اس کے بعد کچھ نہیں ہو سکا، جبکہ شہری دوردراز علاقوں سے پانی بھر کر لانے یا خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہیں، انہوں نے وزیر اعلی مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لے کراقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں