آبادی روکنے کی آگاہی مہم کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود ممکن نہ بنائی جاسکی

آبادی روکنے کی آگاہی مہم کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود ممکن نہ بنائی جاسکی

عملہ کی بھرتی پر کروڑوں روپے خرچ ،عملے کیلئے بیٹھنے کی جگہ کے لئے کئی ماہ تک ایڈجسٹمنٹ کا عمل سست روی کا شکار رہا،عملدرآمد صرف سرکاری ریکارڈ کی تکمیل تک محدود رہا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) متعلقہ افسران کی عدم توجہی کے باعث ضلع میں بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب کو روکنے اور پسماندہ علاقوں کے افراد میں آگاہی مہم چلانے کے مختلف پروگراموں پر مناسب عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مطلوبہ اہداف کی تکمیل رواں مالی سال کے تحت کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ممکن نہ بنائی جا سکی ،ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں پہلے فیملی ہیلتھ کلینکس اور ماڈل فیملی ویلفیئر سنٹرز بنائے گئے تا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی شرح مطلوبہ ہدف تک لایا جا سکے اس کیساتھ ساتھ محفوظ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کیلئے عالمگیر رسائی کیلئے پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات بھی کی گئیں، ان سنٹروں کے قیام اور عملہ کی بھرتی پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے تاہم ان سنٹروں کو ختم کر کے گزشتہ سال تمام عملے کو قریبی بنیادی مراکز صحت، آر ایچ سیز اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں عملے کیلئے بیٹھنے کی جگہ اور دیگر مسائل کی وجہ سے کئی ماہ تک ایڈجسٹمنٹ کا عمل سست روی کا شکار رہا اورمتذکرہ حکومتی پروگراموں پرعملدرآمد صرف سرکاری ریکارڈ کی تکمیل تک محدود رہا تاکہ تنخواہوں کی ادائیگی نہ رک جائے ۔ متذکرہ اقدامات اور خطیر فنڈز کے مقابلے میں متعلقہ شعبے کی کارکردگی مایوس کن رہی جس پر سیکرٹری پاپولیشن کی طرف سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی افسران کو ہدایت کی گئی ہے وہ فوری طور پر معاملات کا جائزہ لے کر منصوبوں کو جلد از جلد فعال کرنے کیلئے اقدامات اٹھا کر رپورٹ ارسال کریں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں