گوجرانوالہ:جعلی ریڈز، اغوا و تشدد ، این سی سی آئی اہلکاروں پر مقدمہ
آن لائن ٹریڈنگ تنازع پر چار بھائیوں کو اغواکرکے ماراپیٹا،30لاکھ لیکرچھوڑدیا آفس سپرنٹنڈنٹ ، ایک ڈپٹی ڈائریکٹر، اے ایس آئی شہروز اور تین فرنٹ مین گرفتار
لاہور (محمد حسن رضا سے ) گوجرانوالہ این سی سی آئی کے مبینہ کرپشن سکینڈل میں اختیارات کے ناجائز استعمال، اغوا، تشدد اور بھتہ خوری کا بڑا کیس سامنے آ گیا ، سرکاری افسروں کے نام پر بعض اہلکاروں اور انکے مبینہ فرنٹ مینوں کی جانب سے شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کر بھاری رقوم وصول کرنے کے الزامات پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا ۔ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل گوجرانوالہ میں 7 افراد کے خلاف اغوا برائے تاوان، تشدد، بلیک میلنگ اور کرپشن کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ مقدمے کے مطابق آن لائن ٹریڈنگ کے تنازع پر ایک شہری کے چار بیٹوں کو 2 فروری 2025 کو گارڈن ٹاؤن گوجرانوالہ سے اغوا کیا گیا۔
ملزموں نے خود کو ایف آئی اے سائبر کرائم کا اہلکار ظاہر کرتے ہوئے گھر پر چھاپہ مارا، موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور گاڑی قبضے میں لی اور بعد ازاں بیٹوں کو زبردستی لے گئے ۔ایف آئی آر کے مطابق رہائی کے بدلے ابتدائی طور پر 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا جو بعد میں 30 لاکھ روپے پر طے پایا۔ متاثرہ خاندان نے مختلف اوقات میں نقد رقم ادا کی جس کے بعد چاروں بیٹوں کو رہا کیا گیا، تاہم دورانِ حراست تشدد کیے جانے کا انکشاف ہوا۔تحقیقات کے دوران جعلی ریڈز کے ذریعے ریکوری کے منظم نیٹ ورک کا بھی پردہ فاش ہوا۔ گرفتار ملزموں نے اعتراف کیا کہ رقوم افسروں میں تقسیم کی جاتی تھیں اور اس کا باقاعدہ ریکارڈ ایکسل شیٹس میں رکھا جاتا تھا۔ اس کیس میں آفس سپرنٹنڈنٹ اللہ یار، ایک ڈپٹی ڈائریکٹر، اے ایس آئی شہروز اور تین فرنٹ مین گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ مقدمہ مختلف تعزیراتی دفعات اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ کے تحت درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے ۔