"IYC" (space) message & send to 7575

راکھ

ایک اور واقعہ‘ ایک اور سانحہ‘ ایک اور المیہ‘ اور وضاحتوں‘ تجاویز اور اقدامات کے وعدوں کا ایک اور سلسلہ۔ جانے والے چلے گئے۔ جو لاپتا ہیں ان کا کچھ علم نہیں کہ زندہ ہیں یا اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ امید کے تار ٹوٹتے جا رہے ہیں اور کچھ پتا نہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے ایک بار پھر بہت سے ضمیروں کو جھنجھوڑا ہے۔ عوامی معاملات پر توجہ دینے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمارے ملک میں بڑی آتشزدگی کے سینکڑوں واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں نہیں تو دسیوں ہزاروں میں ضرور ہو گی۔ زخمی اور اپاہج ہونے والوں کی تعداد یقینا اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔
ہمارے ملک میں آتشزدگی کے واقعات رونما ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ بڑی عمارات میں بجلی کی وائرنگ لوڈ کے مطابق اور معیاری نہیں کی جاتی۔ جب لوڈ بڑھتا ہے تو شارٹ سرکٹ ہوتا ہے اور آگ لگ جاتی ہے‘ جس پر اگر بروقت قابو نہ پایا جا سکے تو بسا اوقات یہ آگ پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عمارات کے اندر‘ خاص طور پر کاروبار کے لیے استعمال ہونے والے پلازوں میں جو بجلی کے آلات استعمال کیے جاتے ہیں‘ ان کے معیار کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا‘ یہ بعض اوقات زیادہ استعمال کی وجہ سے گرم ہو کر پھٹ جاتے ہیں یا ان میں آگ لگ جاتی ہے اور یہ معاملہ بڑی آتشزدگی کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بڑی عمارات خصوصاً کاروبار کے لیے استعمال ہونے والے پلازوں کے اندر وائرنگ کے لیے ہمیشہ معیاری اور برانڈڈ تار استعمال کیے جائیں‘ اور ہمیشہ برانڈڈ آلات فٹ کیے جائیں کیونکہ مشاہدے میں آتا ہے کہ برانڈڈ آلات چیک کر کے مارکیٹ میں بھیجے جاتے ہیں اور ان کی کارکردگی مارکیٹ میں کھلے اور بغیر ناموں کے بکنے والے آلات کی نسبت بہت بہتر ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بجلی کے تاروں اور برقی آلات کے لیے معیار مقرر کرے اور صرف اس معیار پر پورا اترنے والا سامان ہی مارکیٹ میں آنا چاہیے۔ الیکٹرک سٹوروں پر غیر معیاری تار اور آلات کی فروخت فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔
پھر ہر حادثے کے بعد یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ پلازوں کے مالکان ہنگامی انخلا کے حوالے سے مناسب انتظامات نہیں کرتے‘ چنانچہ جب کوئی حادثہ ہو جاتا ہے خصوصاً جب آتشزدگی ہوتی ہے تو بہت سے لوگ جو پلازوں میں اوپر کی منزلوں پہ ہوتے ہیں یا بہت اندر کی دکانوں پر شاپنگ میں مصروف ہوتے ہیں ان کے لیے باہر نکلنا مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے‘ جیسا کہ گل پلازہ کے معاملے میں ہوا کہ بہت سے لوگ جو ایگزٹ دروازوں کے پاس تھے وہ تو باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن بہت سے ایسے تھے جو بر وقت باہر نہیں نکل سکے‘ اور خدشہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر اب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہوں گے کیونکہ جب آگ لگتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والا دھواں بند کمروں یا دکانوں کے اندر موجود لوگوں کے لیے سانس لینا ناممکن بنا دیتا ہے اور لوگ اگر آتشزدگی کا شکار نہ بھی ہوں تو دھویں کے باعث دم گھٹنے کی وجہ سے ضرور جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ اسی سے منسلک ایک معاملہ بڑی بڑی عمارات میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے انتظامات کا ضرورت یا Capacity کے مطابق نہ ہونا بھی ہے۔ ہمیں بڑی عمارات میں آگ بجھانے کے آلات دیواروں پر آویزاں ضرور نظر آتے ہیں لیکن یہ انتظامات چھوٹی اور محدود آگ کے لیے ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ خدانخواستہ آگ پھیل جائے تو پھر ان آلات سے آگ بجھانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ پلازوں اور شاپنگ سنٹرز کے مالکان ہر مہینے کروڑوں روپے کرایوں اور مینٹیننس کی مد میں حاصل کرتے ہیں۔ انہیں نہ صرف آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے اچھے اور وافر انتظامات کرنے چاہئیں بلکہ تربیت یافتہ عملہ بھی رکھنا چاہیے تاکہ انہیں گل پلازہ جیسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سندھ حکومت کی جانب سے گل پلازہ کی آتشزدگی کے معاملے کی چھان بین کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے‘ جو اپنی رپورٹ مرتب کرکے وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔ میرے خیال میں تحقیقات اور رپورٹ کا فائدہ صرف اسی صورت میں ہو گا کہ رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار اور تجاویز کو سامنے رکھ کر مناسب فیصلے کیے جائیں اور ایسے انتظامات کیے جائیں کہ آئندہ گل پلازہ جیسے واقعات پیش نہ آئیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر بڑی عمارت میں آتشزدگی کے خدشات کے پیشِ نظر مناسب انتظامات کا ازسر نو جائزہ لیا جائے‘ اور اس سارے معاملے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ ایک تو آگ لگنے کی نوبت ہی نہ آئے اور اگر خدانخواستہ آگ لگ جائے تو پھر اس کو بجھانے کے لیے مناسب انتظامات موجود ہوں تاکہ نہ صرف وہاں آنے والی قیمتی انسانی جانوں کو ضیاع سے محفوظ رکھا جا سکے بلکہ ان کروڑوں کی املاک کو تباہ ہونے سے بھی بچایا جا سکے جو اکثر ایسے حادثات کی نذر ہو جایا کرتی ہیں۔
جب بھی گل پلازہ جیسا کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بہت بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ لیکن یہ دعوے محض زبانی جمع خرچ تک محدود رہتے ہیں اور عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد ایک نیا سانحہ پیش آ جاتا ہے‘ ایک اور حادثہ پوری قوم کے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ محض بلند بانگ دعوے نہ کیے جائیں بلکہ ان دعووں کو متشکل کرنے کے لیے کچھ عملی اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ اور یہ کام وقت رہتے کیا جانا چاہیے۔ ہر بڑی عمارت اور ہر پلازے کا سروے ہونا چاہیے تاکہ پتا چل سکے کہ ان میں سے کتنے محفوظ اور کتنے غیرمحفوظ ہیں۔ جس طرح مردم شماری اور خانہ شماری ہوتی ہے اس طرح پلازہ شماری بھی ہونی چاہیے تاکہ ان عمارتوں کو یہاں شاپنگ کے لیے آنے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔ جب آگ لگ جائے اور سب کچھ جل جائے تو راکھ کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بر وقت کیے گئے اقدامات ہی سود مند ثابت ہوتے اور تحفظ کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ ایسا تبھی ممکن ہے کہ وقت گزرنے اور معاملہ ٹھنڈا ہونے پر دعوے اور وعدے بھلا نہ دیے جائیں۔ عوام بھی معاملے کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس کا طریقہ وہی ہے کہ ہر متعلقہ دروازے پر دستک دینا۔ کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی تو فریاد سنے گا۔ متعلقہ سرکاری اداروں میں رشوت اور کرپشن ہی کا سد باب کر لیا جائے تو معاملات خاصے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ رشوت لے اور دے کر حاصل کیے گئے کمپلیشن سرٹیفکیٹس کا نتیجہ آتشزدگی کی صورت میں ہی نکلتا ہے اور آئندہ بھی یہی نتیجہ نکلتا رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں