11سالہ لڑکی کی 80 سالہ شخص سے جبری شادی، دلہا گرفتار
ڈی جی خان میں واقعہ، والد،سوتیلی ماں،نکاح خواں اور دلہے کیخلا ف مقدمہ سابق شوہر نے 15لاکھ کے عوض بیٹی بیاہ دی ، بازیاب کرایا جائے ، والدہ کی دہائی
ڈیرہ غازیخان(ڈسٹرکٹ رپورٹر )بارڈر ملٹری پولیس کے تھانہ پھگلہ کے علاقہ میں 11 سالہ بچی کی 80 سالہ شخص سے مبینہ جبری شادی، والد، سوتیلی ماں سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،15 لاکھ روپے کے عوض کمسن بچی کی شادی کرانے کا الزام، کم سن لڑکی کی والدہ کی درخواست پر بی ایم پی تھانہ پھگلہ میں چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، دلہا گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخا ن بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کوہ سلیمان کے تھانہ پھگلہ نے 11 سالہ کمسن بچی کی مبینہ طور پر زبردستی 80 سالہ شخص سے شادی کرانے کے الزام میں والد، سوتیلی ماں، د لہا اور نکاح خواں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ،پولیس کے مطابق ایف آئی آر چائلڈ میرج ایکٹ 2026 کے تحت درج کی گئی ہے۔
مقدمے میں حمید ، ثمینہ مائی ، میوہ خان اور 80 سالہ مٹھہ مبینہ دلہا کو نامزد کیا گیا ہے ، درخواست گزار خانی مائی نے مو قف اختیار کیا کہ ان کی 11 سالہ بیٹی انیلا جمیل کی اس کے والد حمید اور سوتیلی والدہ ثمینہ مائی نے ملی بھگت سے مبینہ طور پر 15 لاکھ روپے کے عوض 80 سالہ شخص مٹھہ سے زبردستی شادی کر دی، ایف آئی آر کے مطابق میوہ خان نے مبینہ طور پر نکاح پڑھایا جبکہ بچی کو زبردستی رخصت بھی کر دیا گیا،درخواست میں لڑکی کی والدہ نے مزید الزام عائد کیا کہ شادی کی تقریب میں متاثرہ بچی کی والدہ خانی مائی سمیت اس کے قریبی رشتہ داروں کو جان بوجھ کر شریک نہیں کیا گیا تاکہ اس عمل میں رکاوٹ نہ آئے ، زبردستی رخصتی کے وقت لڑکی نے آہ و بکا کی شور مچایا لیکن کسی نے اسکی چیخ وپکار نہ سنی اور اسکی رخصتی کردی ۔