کتا رکھنا جائز یاناجائز مصرمیں بحث

 کتا رکھنا جائز یاناجائز  مصرمیں بحث

مصر کے مفتی اعظم شوقی علام نے کتے کو انسان کا ‘‘بہترین دوست ’’ قرار دے کر نئی بحث چھیڑدی ہے

قاہرہ (مانیٹرنگ نیوز )اس لیے کہ اسلامی تعلیمات کی تشریح کرنے والے اکثر علما کا موقف ہے کہ کتا ناپاک جانور ہے ، برطانوی جریدے اکانومسٹ کے مطابق مفتی اعظم نے مالکی فقہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام جانور پاک ہوتے ہیں اور گھر میں کتا ہونے کے باوجود نماز ادا کی جاسکتی ہے ۔ اس کے برعکس بہت سے علما نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر کسی گھر میں کتا موجود ہے تو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوں گے ، بعض علما نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگر کوئی مسلمان شخص کتا پالتا ہے تو وہ محض اس وجہ سے اپنی بعض نیکیوں کے اجر سے محروم کردیا جائے گا،تاہم بعض علما نے یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ اگر کتے کا مالک اسے گھر کے اندر نہیں آنے دیتا اور اسے باہر ہی رکھتا ہے تو چوکیداری ، شکار ،فارمنگ اور نسل کی افزائش کیلئے پالنے میں کوئی حرج نہیں ۔ کچھ عرصہ قبل مصر ی صدر عبدالفتح السیسی کے مشیر برائے مذہبی امور اسامہ الازہری کی ایک تصویر اخبارات میں شائع ہوئی تھی، جس میں انھو ں نے ایک کتے کا پنجرہ تھاما ہوا تھا، ظاہر ہے مذہبی حلقوں نے اس بات پر اعتراض کیا، اس پر صدر کے مشیر نے اصحاب کہف کا حوالہ دیا جو ایک غار میں چھپ گئے تھے اور وہاں 300 سال تک سوتے رہے تھے ، اس دوران ان کا کتا غار کے باہر نگرانی کرتا رہا اکثر مسلمانوں کا موقف ہے کہ یہ ساری بحث ہی وقت کا ضیاع ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں