حضرت ابوعبیدہؓ بن جراح نے‘ جنہیں رسول اللہﷺ نے اس اُمت کے امین کا لقب عطا فرمایا تھا‘ اپنے والد عبداللہ بن جراح کو‘ حضرت مصعبؓ بن عمیر نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو اور حضرت عمرؓ فاروق نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا۔ ایسا فیصلہ کن نظارہ چشمِ فلک نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ رسول اللہﷺ کے چچا عباس بن عبدالمطلب اور چچا زاد عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث گرفتار ہوئے اور چار سو دینار فی کس فدیہ دے کر آزاد ہوئے۔
معرکۂ بدر میں بعض خارقِ عادت واقعات بھی ظہور پذیر ہوئے‘ اُن میں سے چند یہ ہیں: (الف) حضرت عکاشہ الاسدی رضی اللہ عنہ کفار سے لڑ رہے تھے کہ اس معرکے کے دوران ان کی تلوار ٹوٹ گئی‘ وہ پلٹ کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میری تلوار تو ٹوٹ گئی ہے‘ اب میں کس چیز سے قتال کروں۔ سرورِ عالَمﷺ کے پاس ایک لکڑی پڑی تھی‘ آپﷺ نے وہ اٹھا کر اُنہیں دی اور فرمایا: عکاشہ! جائو! اس سے دشمن سے جہاد کرو۔ عکاشہؓ نے لکڑی کو ہاتھ میں پکڑ کر لہرایا تو وہ مضبوط تلوار بن گئی جس کا لوہا بڑا مضبوط تھا۔ عکاشہؓ اس کے ذریعے کفار سے لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فتح مبین عطا فرمائی۔ یہ تلوار ''العون‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور پھر وہ تمام غزوات میں اسی سے جنگ کرتے رہے‘ یہاں تک کہ فتنۂ انکارِ ختم نبوت میں ایک جھوٹے مدعی نبوت طلیحہ اسدی نے ان کو شہید کر دیا۔ امام السِّیَر ابن اسحاق لکھتے ہیں: جب حضور انورﷺ نے یہ خوشخبری سنائی کہ میری امت کے ستّر ہزار آدمیوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کیا جائے گا تو عکاشہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! دعا فرمائیے: اللہ مجھے بھی ان خوش نصیبوں میں شامل کر دے‘ حضورﷺ نے دعا فرمائی: ''اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل فرما دے‘‘۔ اسی طرح ایک اور مجاہد سلمہؓ بن اسلم بن حریش کی جب تلوار ٹوٹی تو حضورﷺ نے انہیں خشک کھجور کی ٹہنی دی اور وہ بھی تلوار بن گئی اور ان کی شہادت تک یہ ان کے پاس رہی۔ (ب) غزوۂ بدر میں حضرت قتادہ کی آنکھ میں تیر لگا اور آنکھ کا ڈھیلا رخسار پر بہنے لگا‘ لوگوں نے اسے کاٹ کر الگ کرنا چاہا تو انہوں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: آپ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور اپنے دستِ مبارک سے اس بہتے ہوئے ڈھیلے کو واپس آنکھ میں رکھ دیا اور اس پر اپنا دستِ مبارک پھیرا تو دونوں آنکھوں میں کوئی فرق نہ رہا۔ راوی لکھتے ہیں: ''انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان میں سے کون سی آنکھ پھوٹی تھی‘‘۔ (ج) رسول اللہﷺ القمر: 45 تا 46 کی آیۂ مبارکہ کو بطورِ دعا پڑھتے تھے: ''عنقریب یہ جماعتِ (کفار) پسپا ہو گی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے‘ بلکہ ان کا مقررہ وقت روزِ قیامت ہے اور قیامت بڑی خوفناک اور تلخ ہے۔ (د) جنگ سے ایک دن قبل رسول اللہﷺ نے میدانِ جنگ کا معائنہ فرمایا اور ایک مقام پر آپﷺ نے فرمایا: ''ان شاء اللہ! اس جگہ کل فلاں کی لاش پڑی ہو گی اور اس جگہ فلاں کی لاش پڑی ہو گی‘‘۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس نے ہمارے نبی کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا‘ ان کفار کی لاشیں رسول اللہﷺ کی بیان کردہ جگہوں سے ذرا بھی ادھر ادھر نہیں تھیں۔
(ہ) حضرت ابوطلحہؓ بیان کرتے ہیں: جب کفار کی لاشیں ایک گڑھے میں ڈال دی گئیں تو اس کے کنارے کھڑے ہوکر رسول اللہﷺ نے ندا دی: ''ابوجہل! امیہ بن خلف! عتبہ بن ربیعہ! شیبہ بن ربیعہ! کیا تمہارے لیے یہ بات خوش آئند نہ ہوتا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کر لیتے۔ مجھ سے میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا‘ میں نے اُسے سچا پایا (تم بھی بتائو) اللہ اور اس کے رسول نے تم سے جو (ہلاکت کا) وعدہ کیا تھا‘ کیا تم نے اس کو سچا پایا‘‘۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے نبی کے کتنے برے رشتے دار تھے‘ تم نے مجھے جھٹلایا اور لوگوں نے میری تصدیق کی‘ تم نے مجھے اپنے گھر سے نکالا اور لوگوں نے مجھے پناہ دی‘ تم نے مجھ سے جنگ کی اور لوگوں نے میری مدد کی‘‘۔ جب رسول اللہﷺ کفارِ مکہ کی ان لاشوں کو خطاب فرما رہے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! انہیں مرے ہوئے تین دن گزر چکے ہیں‘ آپ آج انہیں پکار رہے ہیں: یہ بے روح جسم کیسے گفتگو کر سکتے ہیں‘ نبی مکرمﷺ نے فرمایا: ''میں جو اُن سے کہہ رہا ہوں‘ میری باتوں کو تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے‘ وہ اب میری باتوں کو سن رہے ہیں‘ لیکن وہ جواب دینے کی صلاحیت سے محروم ہیں‘‘۔ (و) حضرت ابوحذیفہؓ بن عتبہ بن ربیعہ مکۂ مکرمہ کے نامی گرامی خاندان کے فرد تھے‘ اس خاندان کے نمایاں افراد عتبہ بن ربیعہ‘ شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ بدر میں قتل ہوئے اور جہنم رسید ہو گئے۔ جب کفار کی لاشوں کو گھسیٹ کر لایا جا رہا تھا تو اُن کے باپ عتبہ بن ربیعہ کی لاش بھی لائی گئی جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔ یہ منظر ابوحذیفہؓ کے لیے بڑا حوصلہ شکن اور صبر آزما تھا‘ ان کی کیفیت کو دیکھ کر سرورِ عالمﷺ نے اُن سے فرمایا: ابوحذیفہ! اپنے باپ کی یہ حالت دیکھ کر تمہارے دل میں کچھ خیال تو پیدا نہیں ہوا‘ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ہرگز نہیں! مجھے اپنے باپ کے انجام کے بارے میں کوئی شک نہیں‘ لیکن میں اپنے باپ کو بڑا صاحب الرائے‘ حلیم الطّبع اور فضیلتوں کا حامل سمجھتا تھا‘ مجھے امید تھی کہ ان کی فراست اور دانش مندی انہیں اسلام قبول کرنے پر آمادہ کر دے گی‘ لیکن ایسا نہ ہو سکا‘ اس لیے میں اُن کے اس انجام کو دیکھ کر بے حد رنجیدہ ہوں۔
جب ابتدا میں رسول اللہﷺ کو مقامِ زفران پر پتا چلا کہ اب تجارتی قافلے کے بجائے کفارِ مکہ کے ایک منظم اور مسلّح لشکر سے مقابلہ ہو گا تو آپﷺ نے مہاجرین وانصار صحابۂ کرام کو جمع کر کے صورتِ حال سے آگاہ کیا اور ان کی رائے معلوم کی۔ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما نے اپنے جانثارانہ جذبات کا اظہار کیا‘ لیکن شاید رسول اللہﷺ انصارِ مدینہ کی رائے جاننا چاہتے تھے‘ تو حضرت مقدادؓ بن عمرو کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اللہ نے آپ کو جو حکم دیا ہے‘ اس کے مطابق اپنا سفر جاری رکھیے‘ واللہ! ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہیں کہ جنہوں نے قومِ جبّارین کے ساتھ لڑائی سے گریز کرتے ہوئے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا: ''اے موسیٰ! جائیے! آپ اور آپ کا رب (ان جبّارین سے) لڑ لیجیے‘ ہم یہاں (امن وسکون سے) بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا‘ اگر آپﷺ ہمیں برک الغماد تک بھی لے جائیں گے تو ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد کریں گے یہاں تک کہ آپ منزل تک پہنچ جائیں گے‘‘۔ حضرت سعدؓ بن معاذ نے اٹھ کر عرض کی: یا رسول اللہﷺ! لگتا ہے: آپ ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں‘ تو سنیے: ہم آپ پر ایمان لائے اور ہم نے آپ کی تصدیق کی اور جو دعوتِ حق آپ لے کر آئے‘ ہم نے اس کے حق ہونے کی گواہی دی اور اس پر ہم نے پختہ عہد کیا کہ ہر فرمان کو سنیں گے اور آپ کی ہر بات کی اطاعت کریں گے‘ یا رسول اللہﷺ! آپ ہمیں جہاں لے کر جانا چاہتے ہیں‘ لے جائیں‘ ہم آپ کے ساتھ ہوں گے‘ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا: اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا کہیں گے‘ تب بھی ہم آپ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم اس بات کو ناپسند نہیں کرتے کہ آپ کل ہی ہمیں ساتھ لے کر دشمن کا مقابلہ کریں‘ ہم گھمسان کی جنگ میں صبر کرنے والے ہیں‘ دشمن سے مقابلے کے وقت ہم سچے ثابت ہوں گے‘ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ کارنامے سرزد ہوتے ہوئے دکھائے گا‘ جس سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو گی۔ پس اللہ کے نام پر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیے۔ بدر کا معرکہ اس آیۂ مبارکہ کی عملی تصویر وتعبیر ہے: ''کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ایسی ہیں جو اللہ کے اذن سے بڑی جماعتوں پر غالب آ گئیں‘‘ (البقرہ: 249)۔