جاتے جاتے مزید تباہیاں

جمعرات کے روز جب پاکستان میں صبح کے چھ بجے تھے اس وقت امریکہ کی بعض ریاستوں میں بدھ کی شب آٹھ اور بعض میں نوبجے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنی قوم سے خطاب کو ساری دنیا میں توجہ سے سنا گیا۔ بعض لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ٹرمپ نے جس طرح اچانک ایران پر حملہ کیا تھا‘ اب وہ اسی طرح اچانک ایران پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا اعلان کر دیں گے۔ مگر ہوا اس کے برعکس! ٹرمپ نے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ''جنگ جاری رہے گی‘‘ کی بریکنگ نیوز تھی۔
ایسا کیوں ہوا؟ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ امریکی صدر ایران پر مسلط کردہ جنگ سے دامن چھڑانے کا فیصلہ تو کر چکے ہیں مگر فیس سیونگ اور اپنی اَنا کی تسکین کیلئے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ ٹرمپ جاتے جاتے ایران‘ خلیجی ریاستوں بلکہ ساری دنیا کو کتنی ہولناک تباہی سے دوچار کر جائیں گے‘ اس کے بارے میں سردست کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو اقتصادی تباہی سے دوچار کرنے کے علاوہ گھر پھونک تماشا دیکھ رہے ہیں۔ فاکس نیوز کے تازہ ترین سروے کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ امریکیوں نے ٹرمپ کی اس بے مقصد جنگ کو مسترد کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کے واجب الاحترام دانشور سینیٹر برنی سینڈرز اور معروف امریکی ایکٹر رابرٹ ڈی نیرو کی پکار پر واشنگٹن اور نیو یارک سمیت امریکہ کے تین ہزار شہروں میں 80 لاکھ امریکی شہری ''No Kings‘‘ اور ایران کے خلاف جنگ بند کرو کے بینروں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔
مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے ٹرمپ کے متعصب حامی بھی اس وقت کھل کر ایران پر مسلط کی گئی جنگ کی بھرپور مذمت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے ایک بہت قریبی مسلم مخالف مشیر سٹیو بینن‘ صحافی ٹکر کارلسن اور قدامت پسند میجوری ٹیلر گرین‘ جو سابق کانگریس وومن اور ٹرمپ کی قریبی ساتھی ہے‘ نے بھی ایران پر زمینی حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایران پر مسلط کردہ جنگ بند کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکہ میں بدھ کی شب ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب اُن کے مجموعہ تضادات میں ایک اور شاہکار اضافہ ہے۔ منگل کے روز انہوں نے کہا تھا کہ ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر کھلوائیں گے۔ بدھ کے خطاب میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس راستے سے آنے والے تیل کی کبھی ضرورت تھی اور نہ اب ہے۔ اگر یورپ والوں کو تیل کی ضرورت ہے تو ہم سے خرید لیں یا پھر بازوئے شمشیر زن آزمائیں اور جا کر ہرمز کھلوائیں۔
میسج بین السطور یہی ہے کہ عربوں پر تباہی آتی ہے تو آئے‘ یورپ میں اقتصادی بھونچال آتا ہے تو آئے ہمیں پروا نہیں۔ ہمیں تو اب آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔جمعرات کے ہی روز ایران میں طبی تحقیقی مرکز‘ تہران کو کرج کے ساتھ ملانے والے پل اور کئی کارخانوں پر حملے کئے گئے۔ جواباً ایران نے تل ابیب اور کئی خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ چین اور روس نے بھی اس تباہی کو روکنے کیلئے رابطے تیز تر کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ معاہدہ کر لو ورنہ پتھر کے دور میں بھیج دیں گے۔ اس دھمکی کا ایران نے جواب دیا کہ ایک بھی امریکی فوجی ایران سے زندہ واپس نہیں جائے گا۔
اب تک 35 روزہ جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکہ کی مایوس کن کارکردگی سے ایک بات تو ثابت ہو چکی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل بولتے اور بہت کم سوچتے ہیں اور پڑھتے تو شاید بالکل نہیں۔ انہیں ایرانی تہذیب‘ اُن کی جنگی صلاحیت‘ اُن کے جذبۂ حب الوطنی اور اُن کی تاریخِ مزاحمت کے بارے میں کوئی واقفیت نہیں‘ اس لیے وہ سطحی انداز کے غلط اندازے لگا کر پے بہ پے غلطیاں کرتے چلے جا رہے ہیں۔ایک دو روز قبل نصف صدی پہلے کا ایک کلپ نظر سے گزرا ‘اس میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ایک کینیڈین اینکر خاتون کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک اپنے آپ کو برتر اور ہمیں کمتر سمجھتے ہیں۔ دیگر چند دہائیوں کے بعد تمہیں اس خیال پر نظرثانی کی ضرورت پڑے گی۔ آبنائے ہرمز ہماری اقتصادی شہ رگ ہے۔ ایرانی اپنے وطن کے چپے چپے اور آبنائے ہرمز کے دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ شاہ کے بعد تقریباً پانچ دہائیوں میں ایران کی دینی قیادت نے بھی وطن کے دفاع کے جذبے میں مزید حدت اور شدت پیدا کر دی ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ سیّد علی خامنہ ای اور وہاں کی عسکری و سیاسی قیادت نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے والے منہ کی کھائیں گے۔ کوتاہ نظر نیتن یاہو نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایرانی جدت پسند ہوں یا دین پرست مادرِ وطن کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
آج کی مائیں وطن پر قربان ہونے والے اپنے شہید بیٹوں کو جس شان سے الوداع کہہ رہی ہیں‘ اس سے امریکہ کو ہی نہیں ساری دنیا کو یہ پیغام جا رہا ہے کہ ایران کو دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں سے ڈرایا جا سکتا ہے نہ جھکایا جا سکتا ہے۔ ایک ایرانی ماں نے جذبۂ ایمانی سے سرشار ہو کر شہید بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: بیٹے! شہید ہو کر تم مجھے جس مقامِ بلند پر سرفراز کر گئے ہو اس پر میں ہی نہیں ساری ایرانی قوم فخر کرتی رہے گی۔
برطانوی جریدے اکانومسٹ کے سرورق پر شائع ہونے والی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی تصاویر شائع ہوئی ہیں۔ ٹرمپ کی شعلے اگلتی تصویر ہے جبکہ چینی صدر کی ایک باوقار تصویر ہے جس کے اوپر کیپشن ہے ''جب تمہارا دشمن کسی بڑی غلطی کا مرتکب ہو رہا ہو تو کوئی مداخلت نہ کرو‘‘۔ آج دنیا ایران کے ساتھ ہے اور ٹرمپ نے امریکہ کو عالمی تنہائی کا تحفہ دیا ہے۔ٹرمپ کی غلطیوں کے باوجود چین پاکستان کے ساتھ مل کر کبھی پانچ نکاتی فوری جنگ بندی کا منصوبہ پیش کرتا ہے اور کبھی براہِ راست اس کا وزیر خارجہ دنیا بھر میں رابطے تیز کر دیتا ہے۔
بدھ کی شب ٹرمپ کے خطاب سے قبل ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام پیغام میں انہیں بتایا کہ امریکی عوام سے اُن کی کوئی دشمنی نہیں بلکہ ہمدردی ہے۔ دنیا کو تباہی سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ ''امریکہ فرسٹ‘‘ کو بھی اقتصادی کساد بازاری اور سیاسی افراتفری سے دوچار کر دیا ہے۔ ٹرمپ سے جو اختلاف کرتا ہے وہ اس کے خلاف عملی یا زبانی ایکشن پر دیر نہیں کرتے‘ کوئی غور و فکر نہیں کرتے۔ ایران میں ناکامی ٹرمپ کی پالیسی کی وجہ سے ہو رہی ہے مگر اس کا ملبہ انہوں نے اپنی فوج کے سربراہ جنرل رینڈی جارج پر ڈال کر انہیں جبری ریٹائر کر کے گھر بھیج دیا ہے۔فرانسیسی صدر کو ٹرمپ نے بیوی سے تھپڑ کھانے کا طعنہ دیا ہے۔
3نومبر 2026ء کے امریکہ میں ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی 435اور سینیٹ کی 35 سیٹوں پر ہونے والے انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی بنا پر ریپبلکن کی بدترین شکست کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ جمعرات کے روز ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد دنیا بھر میں اقصادی بھونچال آ گیا ہے۔ پاکستان میں پٹرول 458.41اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے۔ ہمارے عرب بھائی امریکی کمبل سے جتنی جلدی جان چھڑا لیں اُن کیلئے اتنا ہی بہتر ہے۔ علمِ نفسیات کا معمولی طالبعلم بھی جانتا ہے کہ جب کوئی شخص جھنجھلاہٹ اور دھمکیوں پر اتر آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس دلیل اور طاقت ختم ہو چکے ہیں۔ٹرمپ کا ایران سے اگلے دو تین ہفتوں میں نکل جانا نوشتۂ دیوار ہے مگر جاتے جاتے وہ کتنی تباہیاں کر جاتے ہیں اس کے بارے میں کوئی حتمی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں